Question Answers

Compiled by Khatim-ul-Ambia University (Hausary Madressa) Karachi


601

Category : خمس

Question : کیا مکلف خمس کو اپنے عہدے پر لیکر خود کو صاحبان خمس کا مقروض کر کے اس خمس میں تصرف کر سکتا ہے؟


Answer-1: مکلف اپنے آپ کو صاحبان خمس کا مقروض کر کے اسمیں تصرف نہیں کر سکتا۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:331 | volume:0


Answer-2: مکلف اپنے آپ کو صاحبان خمس کا مقروض کر کے اسمیں تصرف نہیں کر سکتا۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:272 | volume:0


Answer-3: مکلف اپنے آپ کو صاحبان خمس کا مقروض کر کے اسمیں تصرف نہیں کر سکتا۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:308 | volume:0


Answer-4: مکلف اپنے آپ کو صاحبان خمس کا مقروض کر کے اسمیں تصرف نہیں کر سکتا۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:317 | volume:0



602

Category : خمس

Question : نوکری پیشہ افراد کے خمسی سال کی ابتدا کس وقت سے ہوتی ہے؟


Answer-1: نوکری پیشہ افراد کی خمسی تاریخ کی ابتدا اس وقت سے ہوتی ہے جب وہ کام کرنا شروع کرتے ہے۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:325 | volume:0


Answer-2: نوکری پیشہ افراد کی خمسی تاریخ کی ابتدا اس وقت سے ہوتی ہے جب وہ کام کرنا شروع کرتا ہے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:269 | volume:0


Answer-3: نوکری پیشہ افراد کے خمسی سال کی ابتدا انکی پہلی درآمد کے وقت سےہو تی ہے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:304 | volume:0


Answer-4: نوکری پیشہ افراد کے خمسی سال کی ابتدا انکی پہلی درآمد کے وقت سےہو تی ہے۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:313 | volume:0



603

Category : خمس

Question : تجارت کرنے والے افراد کے خمسی سال کی ابتداء کس وقت سے ہوتی ہے؟


Answer-1: تجارت کرنے والے افراد کے خمسی سال کی ابتدا ان کے کام کے پہلے دن سے ہوتی ہے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:325 | volume:0


Answer-2: تجارت کرنے والے افراد کے خمسی سال کی ابتدا ان کے کام کے پہلے دن سے ہوتی ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:269 | volume:0


Answer-3: تجارت کرنے والے افراد کے خمسی سال کی ابتدا ان کی پہلی درآمد کے وقت سے ہوتی ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:304 | volume:0


Answer-4: تجارت کرنے والے افراد کے خمسی سال کی ابتدا ان کی پہلی درآمد کے وقت سے ہوتی ہے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:313 | volume:0



604

Category : خمس

Question : خمس کی تاریخ (عیسوی یا قمری )کس کلنڈر کے مطابق قرار دینا چاہیئے؟


Answer-1: خمس دینے والے کو اختیا ر ہے کہ وہ قمری مہینے کو خمس ادا کرنے کا سال قرار دے یا عیسوی مہینے کو۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:328 | volume:0


Answer-2: خمس دینے والے کو اختیا ر ہے کہ وہ قمری مہینے کو خمس ادا کرنے کا سال قرار دے یا عیسوی مہینے کو۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:269 | volume:0


Answer-3: خمس دینے والے کو اختیا ر ہے کہ وہ قمری مہینے کو خمس ادا کرنے کا سال قرار دے یا عیسوی مہینے کو۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:304 | volume:0


Answer-4: احتیاط واجب کی بنا پر خمس قمری سال کے مطابق دیا جائے۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:313 | volume:0



605

Category : نماز

Question : اگر نماز کے دوران معلوم ہو کہ مسجد نجس ہے تو کیا نماز توڑ کر مسجد کو پاک کرنا واجب ہے ۔


Answer-1: اگرنما زکا وقت تنگ نہ ہو اور نماز کے دوران پاک کرنا ممکن نہ ہو اور نماز کے بعد مسجد کو پاک کرنا ممکن نہ ہو تو نماز کو توڑ کر مسجد کو پاک کرنا ضروری ہے۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:227 | volume:0


Answer-2: اگر نماز کا وقت تنگ نہ ہو تو اور نما ز کے دوران مسجد کو پاک نہ کر سکتا ہو تو نماز توڑ کر مسجد کو پاک کرنا واجب ہے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:182 | volume:0


Answer-3: اگر نماز کا وقت تنگ نہ ہو اور نماز کے دوران پاک کرنا ممکن نہ ہو اور نماز کے بعد مسجد کو پاک کرنا ممکن نہ ہو تو نماز کو توڑ کر مسجد کو پاک کرنا ضروری ہے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:201 | volume:0


Answer-4: اگر نما زکا وقت تنگ نہ ہو اور نماز کے دوران پاک کرنا ممکن نہ ہو اور نماز کے بعد مسجد کو پاک کرنا ممکن نہ ہو یا نجس رہنے سے مسجد کی بے حرمتی ہو تو نما ز کوتوڑ کر مسجد کو پاک ضروری ہے۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:210 | volume:0



606

Category : طہارت

Question : اگر کسی چیز کو پاک کرنے کے بعد ہمیں یقین ہو گیا کہ ہم نے تو چیز کو پاک کر لیا ہے پھر ہمیں شک ہو گیا عین نجاست کو بر طرف کیا تھا کہ نہیں تو اب کیا حکم ہو گا؟


Answer-1: جب کسی چیز کو پاک کرنے کے بعد یقین ہو جائے کہ چیز پاک ہو گئی ہے پھر شک ہو کہ عین نجاست کو بر طرف کیا تھا کہ نہیں تو دوبارہ پاک کرنا ہو گا تاکہ یقین ہو جائے کہ عین نجاست بر طرف ہو گئی ہے۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:36 | volume:0


Answer-2: اگر پاک کرتے وقت عین نجاست کو بر طرف کرنے کی جانب متوجہ تھا تو چیز پاک ہے اگر عین نجاست کے بر طرف کرنے کی طرف متوجہ نہیں تھا تو احتیا ط مستحب ہے کہ دوبارہ پاک کرے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:27 | volume:0


Answer-3: جب کسی چیز کو پاک کرنے کے بعد یقین ہو جائے کہ چیز پاک ہو گئی ہے پھر شک ہو کہ عین نجاست کو بر طرف کیا تھا کہ نہیں تو دوبارہ پاک کرنا ہو گا تاکہ یقین ہو جائے کہ عین نجاست بر طرف ہو گئی ہے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:31 | volume:0


Answer-4: جب کسی چیز کو پاک کرنے کے بعد یقین ہو جائے کہ چیز پاک ہو گئی ہے پھر شک ہو کہ عین نجاست کو بر طرف کیا تھا کہ نہیں تو دوبارہ پاک کرنا ہو گا تاکہ یقین یا اطمینان ہو جائے کہ عین نجاست بر طرف ہو گئی ہے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:33 | volume:0



607

Category : طہارت

Question : زمین کن شرائط پر نجس کو پاک کرتی ہے؟


Answer-1: زمین کے پاک کرنے کی 4 شرائط ہیں (۱)زمین پاک ہو (۲)زمین خشک ہو(۳)احتیاط لازم کی بنا پر نجاست زمین سے لگی ہو(۴)نجاست راہ چلنے یا زمین پر ملنے سے دور ہو۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:37 | volume:0


Answer-2: زمین کے پاک کرنے کی تین ۳ شرائط ہیں(۱)زمین پاک ہو(۲)زمین خشک ہو(۳)نجاست راہ چلنے یا زمین پر ملنے سے دور ہو۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:28 | volume:0


Answer-3: زمین کے پاک کرنے کی تین ۳ شرائط ہیں(۱)زمین پاک ہو(۲)زمین خشک ہو(۳)نجاست راہ چلنے یا زمین پر ملنے سے دور ہو۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:32 | volume:0


Answer-4: زمین کے پاک کرنے کی تین ۳ شرائط ہیں(۱)زمین پاک ہو(۲)زمین خشک ہو(۳)نجاست راہ چلنے یا زمین پر ملنے سے دور ہو۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:33 | volume:0



608

Category : طہارت

Question : کیا زمین بھی نجس کو پاک کرتی ہے؟


Answer-1: زمین ،پاؤں کے تلوے اور جوتے کے نچلے حصے کو چار شرطوں کے ساتھ پاک کرتی ہے۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:37 | volume:0


Answer-2: زمین تین شرطوں کے ساتھ پاؤں کے تلوے اور جوتے کے نچلے حصے کو پاک کرتی ہے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:28 | volume:0


Answer-3: زمین تین شرطوں کے ساتھ پاؤں کے تلوے اور جوتے کے نچلے حصے کو پاک کرتی ہے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:32 | volume:0


Answer-4: زمین تین شرطوں کے ساتھ پاؤں کے تلوے اور جوتے کے نچلے حصے کو پاک کرتی ہے۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:33 | volume:0



609

Category : نماز

Question : جس شخص کے لئے نماز کو توڑنا واجب تھا اس نے نماز مکمل کر لی کیا اس کی نماز باطل ہے؟


Answer-1: جس شخص کے لئے نماز کو توڑنا واجب تھا اگراس نے نماز مکمل کر لی تو اس کی نماز صحیح ہے اگرچہ گناہگار ہے ۔لیکن احتیاط مستحب ہے دوبارہ نماز پڑھے۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:227 | volume:0


Answer-2: جس شخص کے لئے نماز کو توڑنا واجب تھا اگراس نے نماز مکمل کر لی تو اس کی نماز صحیح ہے اگرچہ گناہگار ہے ۔لیکن احتیاط مستحب ہے دوبارہ نماز پڑھے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:183 | volume:0


Answer-3: جس شخص کے لئے نماز کو توڑنا واجب تھا اگراس نے نماز مکمل کر لی تو اس کی نماز صحیح ہے اگرچہ گناہگار ہے ۔لیکن احتیاط مستحب ہے دوبارہ نماز پڑھے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:201 | volume:0


Answer-4: جس شخص کے لئے نماز کو توڑنا واجب تھا اگراس نے نماز مکمل کر لی تو اس کی نماز صحیح ہے اگرچہ گناہگار ہے ۔لیکن احتیاط مستحب ہے دوبارہ نماز پڑھے۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:210 | volume:0



610

Category : نماز

Question : اگر کوئی شخص بھولے سے اذان واقامت نہ پڑھے اور نماز کے دوران یاد آئے تو کیا نماز توڑ سکتا ہے؟


Answer-1: اگر کوئی شخص بھولے سے اذان واقامت نہ پڑھے اور نماز کے دوران یاد آئےاور نماز کا وقت بھی زیادہ ہو تو مستحب ہے اس کو پڑھنے کے لئیے نماز توڑ دے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:227 | volume:0


Answer-2: اگر کوئی شخص بھولے سے اذان یااقامت نہ پڑھے اور رکوع میں جھکنے سے پہلے یاد آ جائے اور نماز کا وقت بھی زیادہ ہو تو مستحب ہے اس کو نماز پڑھنے کے لئیے نماز توڑ دے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:183 | volume:0


Answer-3: اگر کوئی شخص بھولے سے اذان واقامت نہ پڑھے اور رکوع میں جھکنے سے پہلے یاد آ جائے اور نماز کا وقت بھی زیادہ ہو تو مستحب ہے اس کو نماز پڑھنے کے لئیے نماز توڑ دے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:201 | volume:0


Answer-4: اگر کوئی شخص بھولے سے اذان واقامت نہ پڑھے اور رکوع میں جھکنے سے پہلے یاد آ جائے اور نماز کا وقت بھی زیادہ ہو تو مستحب ہے اس کو نماز پڑھنے کے لئیےنماز توڑ دے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:210 | volume:0



611

Category : طہارت

Question : کیا تارکول سے بنی ہوئی سڑکوں سے بھی پاؤں کے تلوے یا جوتے کا نچلہ حصہ پاک ہو سکتا ہے؟


Answer-1: تارکول سے بنی سڑکوں پر چلنے سے پاؤں کے تلوے یا جوتے کے نچلے حصے کا پاک ہونا محل اشکال ہے۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:37 | volume:0


Answer-2: تارکول سے بنی سڑکوں پر چلنے سے پاؤں کے تلوے یا جوتے کا نچلا حصہ پاک نہیں ہوگا۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:28 | volume:0


Answer-3: تارکول سے بنی سڑکوں پر چلنے سے پاؤں کے تلوے یا جوتے کے نچلے حصے کا پاک ہونا محل اشکال ہے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:32 | volume:0


Answer-4: تارکول سے بنی سڑکوں پر چلنے سے پاؤں کے تلوے یا جوتے کے نچلے حصے کا پاک ہونا محل اشکال ہے۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:34 | volume:0



612

Category : خمس

Question : کیا والدین یا اولاد کی طرف سے ارث میں ملنے والے مال کا خمس دینا واجب ہے؟


Answer-1: والدین یا اولاد کی طرف سے ارث میں ملنے والے مال پر خمس دینا واجب نہیں ہے۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:326 | volume:0


Answer-2: والدین یا اولاد کی طرف سے ارث میں ملنے والے مال پر خمس دینا واجب نہیں ہے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:267 | volume:0


Answer-3: والدین یا اولاد کی طرف سے ارث میں ملنے والے مال پر خمس دینا واجب نہیں ہے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:302 | volume:0


Answer-4: والدین یا اولاد کی طرف سے ارث میں ملنے والے مال پر خمس دینا واجب نہیں ہے۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:311 | volume:0



613

Category : خمس

Question : اگر ارث میں ملنے والے مال پر خمس نہ دیا گیا ہو تو کیا اس مال کا خمس دینا پڑے گا؟


Answer-1: جس شخص سے ارث ملی ہے اگر وہ خمس پر عقیدہ رکھتا تھا یا خمس ادا کرتا تھا لیکن اس سے ارث میں ملنے والے مال پر خمس نہیں دیا گیاتھا تو اسکا خمس دینا پڑے گا۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:326 | volume:0


Answer-2: اگر ارث میں ملنے والے مال کا خمس نہ دیا گیا ہو تو اسکا خمس دینا پڑے گا۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:267 | volume:0


Answer-3: اگر ارث میں ملنے والے مال کا خمس نہ دیا گیا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر اسکا خمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:303 | volume:0


Answer-4: جس شخص سے ارث ملی ہے اگر وہ خمس پر عقیدہ رکھتا تھا لیکن ارث میں ملنے والے مال کا خمس نہیں دیاتھا تو اس مال کا خمس دینا پڑے گا۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:312 | volume:0



614

Category : نماز

Question : اگر کوئی شخص نماز میں اقامت کہنا بھول جائے اور نماز کے دوران یاد آجائے تو کیا نماز توڑ سکتا ہے۔


Answer-1: اگر کوئی شخص نماز میں اقامت کہنا بھول جائے اور نماز کے دوران یاد آئے اور نماز کا وقت بھی زیادہ ہوتو مستحب ہے اس کو پڑھنے کے لئیے نماز توڑ دے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:227 | volume:0


Answer-2: اگر کوئی شخص نماز میں اقامت کہنا بھول جائے اور رکوع میں جانے سے پہلے یاد آجائے اور نماز کا وقت بھی زیادہ ہوتو مستحب ہے اس کو پڑھنے کے لئے نماز توڑ دے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:183 | volume:0


Answer-3: اگر کوئی شخص نماز میں اقامت کہنا بھول جائے اور قرائت سے پہلے یاد آجائے اور نماز کا وقت بھی زیادہ ہوتو مستحب ہےاس کو پڑھنے کے لئے نماز توڑ دے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:201 | volume:0


Answer-4: اگر کوئی شخص نماز میں اقامت کہنا بھول جائے اور قرائت سے پہلے یاد آجائے اور نماز کا وقت بھی زیادہ ہوتو مستحب ہےاس کو پڑھنے کے لئے نماز توڑ دے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:210 | volume:0



615

Category : خمس

Question : اگر ارث میں ملنے والے مال پر خمس نہ ہو لیکن مرحوم خمس کا مقروض ہو تو کیا وارث کو اسکاخمس دینا پڑ ے گا؟


Answer-1: اگر ارث میں ملنے والے مال پر خمس نہ ہو لیکن مرحوم خمس کا مقروض ہو تو اگر مرحوم خمس پر عقیدہ رکھتا تھا یا خمس ادا کرتا تھا ،تو اسکے مال سے خمس ادا کرنا پڑے گا۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:326 | volume:0


Answer-2: اگر ارث میں ملنے والے مال پر خمس نہ ہو لیکن مرحوم خمس کا مقروض ہو تواسکے مال سے خمس ادا کرنا پڑےگا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:268 | volume:0


Answer-3: اگر ارث میں ملنے والے مال پر خمس نہ ہو لیکن مرحوم خمس کا مقروض ہو تواسکے مال سے خمس ادا کرنا پڑےگا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:303 | volume:0


Answer-4: اگر ارث میں ملنے والے مال پر خمس نہ ہو لیکن مرحوم خمس کا مقروض ہو توجب تک اسکا خمس ادا نہیں ہو جا تا ارث میں تصرف نہیں کر سکتے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:312 | volume:0



616

Category : طہارت

Question : عموماً پاؤں کے تلوے یا جوتے کے نچلے حصے جب زمین سے پاک کئے جائیں تو انکے اطراف کیچڑ سی لگ جاتی ہے کیا اطراف بھی پاک ہو جائیں گے


Answer-1: جب پاؤں کا تلوا یا جوتے کا نچلہ حصہ زمین پر چلنے سے پاک ہو جائے تو اس کی اطراف کے وہ حصے بھی جنھیں عموماً کیچڑ لگ جاتی ہے پاک ہو جاتے ہیں

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:38 | volume:0


Answer-2: جب پاؤں کا تلوا یا جوتے کا نچلہ حصہ زمین پر چلنے سے پاک ہو جائے تو اس کی اطراف کے وہ حصے بھی جنھیں عموماً کیچڑ لگ جاتی ہے اگر زمین یا مٹی وہاں تک پہنچ جائے تو پاک ہو جائیں گے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:28 | volume:0


Answer-3: جب پاؤں کا تلوا یا جوتے کا نچلہ حصہ زمین پر چلنے سے پاک ہو جائے تو اس کی اطراف کے وہ حصے بھی جنھیں عموماً کیچڑ لگ جاتی ہے پاک ہو جاتے ہیں

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:32 | volume:0


Answer-4: جب پاؤں کا تلوا یا جوتے کا نچلہ حصہ زمین پر چلنے سے پاک ہو جائے تو اس کی اطراف کے وہ حصے بھی جنھیں عموماً کیچڑ لگ جاتی ہے پاک ہو جاتے ہیں

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:34 | volume:0



617

Category : خمس

Question : اگر ارث میں ملنے والے مال کا خمس ادا نہیں کیا ہو تو وارث کی کیا ذمہ داری ہے ؟


Answer-1: اگر مرحوم خمس پر عقیدہ رکھتا تھا یا خمس ادا کرتا تھا تو وارث کو ارث میں ملنے والے مال کا خمس دینا پڑے گا۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:326 | volume:0


Answer-2: اگر ارث میں ملنے والے مال کا خمس ادا نہیں کیا ہو تواسکا خمس ادا کرنا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:268 | volume:0


Answer-3: اگر ارث میں ملنے والے مال کا خمس ادا نہیں کیا ہو تواحتیاط واجب کی بنا پر اسکا خمس ادا کرنا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:303 | volume:0


Answer-4: اگر مرحوم خمس پر عقیدہ رکھتا تھا لیکن ارث میں ملنے والے مال کا خمس ادا نہیں کیا تھا تو حاکم شرع کی اجازت سے اس مال کاخمس ادا کرنا ضروری ہے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:312 | volume:0



618

Category : طہارت

Question : اگر کوئی شخص ہاتھوں اور گھٹنوں کی مدد سے چلتا ہو اور اس کی ہتھیلیا ں ےیا گھٹنے نجس ہو جائیں تو کیا اسے زمین پاک کر سکتی ہے


Answer-1: اگر کوئی شخص ہاتھوں اور گھٹنوں کی مدد سے چلتا ہو اور اس کی ہتھیلیا ں یا گھٹنے نجس ہو جائیں تو ان کا زمین سے پاک ہونا محل اشکال ہے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:38 | volume:0


Answer-2: اگر کوئی شخص ہاتھوں اور گھٹنوں کی مدد سے چلتا ہو اور اس کی ہتھیلیا ں یا گھٹنے نجس ہو جائیں تو ان کا زمین سے پاک ہونا محل اشکال ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:29 | volume:0


Answer-3: اگر کوئی شخص ہاتھوں اور گھٹنوں کی مدد سے چلتا ہو اور اس کی ہتھیلیا ں یا گھٹنے نجس ہو جائیں تو ان کا زمین سے پاک ہونا محل اشکال ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:32 | volume:0


Answer-4: اگر کوئی شخص ہاتھوں اور گھٹنوں کی مدد سے چلتا ہو اور اس کی ہتھیلیا ں یا گھٹنے نجس ہو جائیں تو ان کا زمین سے پاک ہونا محل اشکال ہے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:34 | volume:0



619

Category : طہارت

Question : اگر عصانجس ہو جائے تو کیا زمین سے پاک ہو سکتا ہے


Answer-1: عصا کا زمین سے پاک ہونا محل اشکال ہے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:38 | volume:0


Answer-2: عصا کا زمین سے پاک ہونا محل اشکال ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:29 | volume:0


Answer-3: عصا کا زمین سے پاک ہونا محل اشکال ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:32 | volume:0


Answer-4: عصا کا زمین سے پاک ہونا محل اشکال ہے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:34 | volume:0



620

Category : طہارت

Question : کیا مصنوعی پاؤں اگر نجس ہو جائے تو زمین پر چلنے کی وجہ سے پاک ہو جائے گا؟


Answer-1: اگر مصنوعی پاؤں نجس ہو جائے تو اس کا زمین سے پاک ہونا محل اشکال ہے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:38 | volume:0


Answer-2: اگر مصنوعی پاؤں نجس ہو جائے تو اس کا زمین سے پاک ہونا محل اشکال ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:29 | volume:0


Answer-3: اگر مصنوعی پاؤں نجس ہو جائے تو اس کا زمین سے پاک ہونا محل اشکال ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:32 | volume:0


Answer-4: اگر مصنوعی پاؤں نجس ہو جائے تو اس کا زمین سے پاک ہونا محل اشکال ہے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:34 | volume:0



621

Category : خمس

Question : کیا گفٹ دینے والے پر گفٹ کا خمس دینا واجب ہے؟


Answer-1: اگر آپ کا دیا ہوا گفٹ آپکی حیثیت کے مطابق ہو تو اسکا خمس دینا واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:329 | volume:0


Answer-2: اگر آپ کا دیا ہوا گفٹ آپکی حیثیت کے مطابق ہو تو اسکا خمس دینا واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:271 | volume:0


Answer-3: اگر آپ کا دیا ہوا گفٹ آپکی حیثیت کے مطابق ہو تو اسکا خمس دینا واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:306 | volume:0


Answer-4: اگر آپ کا دیا ہوا گفٹ آپکی حیثیت کے مطابق ہو تو اسکا خمس دینا واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:315 | volume:0



622

Category : خمس

Question : اگر کسی دور کے رشتے دار سے ارث ملے کہ جسکی انسان کو کسی قسم کی توقع نہیں تھی تو اسکے خمس کا کیا حکم ہے؟


Answer-1: اگر کسی دور کے رشتے دار سے اتفاقی طور پر ارث ملے تو اگر وہ سال کے اخراجات کے بعد بچ جائے تو احتیاط واجب کی بنا پر اسکا خمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:326 | volume:0


Answer-2: اگر کسی دور کے رشتے دار سے اتفاقی طور پر ارث ملے تو اگر وہ سال کے اخراجات کے بعد بچ جائے تو احتیاط مستحب کی بنا پر اسکا خمس دے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:267 | volume:0


Answer-3: اگر کسی دور کے رشتے دار سے اتفاقی طور پر ارث ملے تو اگر وہ سال کے اخراجات کے بعد بچ جائے تو احتیاط واجب کی بنا پر اسکا خمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:303 | volume:0


Answer-4: اگر کسی دور کے رشتے دار سے اتفاقی طور پر ارث ملے تو اگر وہ سال کے اخراجات کے بعد بچ جائے تو اسکا خمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:312 | volume:0



623

Category : خمس

Question : اگر نوکری پیشہ شخص کو سال کے دوران فائدہ حاصل ہو اوراسکا انتقال ہو جائے تو کیا اس فائدے کا خمس دینا پڑے گا؟


Answer-1: اگر نوکری پیشہ شخص کو سال کے دوران فائدہ حاصل ہو اوراسکا انتقال ہو جائے تو اسکی موت کے وقت تک کے اخراجات زندگی کو علیحدہ کرنے کے بعد بقیہ مال کا فوراً خمس ادا کرنا پڑے گا.

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:328 | volume:0


Answer-2: اگر نوکری پیشہ شخص کو سال کے دوران فائدہ حاصل ہو اوراسکا انتقال ہو جائے تو اسکی موت کے وقت تک کے اخراجات زندگی کو علیحدہ کرنے کے بعد بقیہ مال کا خمس ادا کرنا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:269 | volume:0


Answer-3: اگر نوکری پیشہ شخص کو سال کے دوران فائدہ حاصل ہو اوراسکا انتقال ہو جائے تو اسکی موت کے وقت تک کے اخراجات زندگی کو علیحدہ کرنے کے بعد بقیہ مال کا خمس ادا کرنا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:304 | volume:0


Answer-4: اگر نوکری پیشہ شخص کو سال کے دوران فائدہ حاصل ہو اوراسکا انتقال ہو جائے تو اسکی موت کے وقت تک کے اخراجات زندگی کو علیحدہ کرنے کے بعد بقیہ مال کا خمس ادا کرنا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:313 | volume:0



624

Category : خمس

Question : کیا گفٹ کا خمس دینا پڑتاہے؟


Answer-1: اگر گفٹ خمس کی تاریخ تک استعمال نہ ہو تو اسکا خمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:325 | volume:0


Answer-2: گفٹ پر خمس دینا واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:267 | volume:0


Answer-3: اگر گفٹ خمس کی تاریخ تک استعمال نہ ہو تو اسکا خمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:302 | volume:0


Answer-4: اگر گفٹ خمس کی تاریخ تک استعمال نہ ہو اور عرف عام میں قابل توجہ شمار ہوتاہو تو اسکا خمس دینا پڑے گا۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:311 | volume:0



625

Category : خمس

Question : کیا پاکٹ منی (جیب خرچ )پر خمس دینا واجب ہے ؟


Answer-1: اگر پاکٹ منی (جیب خرچ ) خمس کی تاریخ تک استعمال نہ ہویا ایسےافراد جنکی خمسی تاریخ نہیں ہو تی اس پر ایک سال گذر جائے تو اسکا خمس دینا پڑے گا۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:325 | volume:0


Answer-2: پاکٹ منی (جیب خرچ) پر خمس واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:267 | volume:0


Answer-3: اگر پاکٹ منی (جیب خرچ ) خمس کی تاریخ تک استعمال نہ ہویا اسے افراد جنکی خمسی تاریخ نہیں ہو تی ایک سال گذر جائے تو اسکا خمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:302 | volume:0


Answer-4: اگر پاکٹ منی (جیب خرچ ) ایک سال تک استعمال نہ ہو اور عرف عام میں قابل توجہ شمار ہو تو اسکا خمس دینا پڑے گا ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:311 | volume:0



626

Category : خمس

Question : کیا عیدی پر خمس دیا جاتا ہے ؟


Answer-1: اگر عیدی خمس کی تاریخ تک یا وہ افراد جنکی خمسی تاریخ نہیں ہو انکے پاس ایک سال تک استعمال نہ ہو تو اسکا خمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:325 | volume:0


Answer-2: عیدی پر خمس دینا واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:267 | volume:0


Answer-3: اگر عیدی خمس کی تاریخ تک یاوہ افراد جنکی خمسی تاریخ نہیں ہو انکے پاس ایک سال تک استعمال نہ ہو تو اسکا خمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:302 | volume:0


Answer-4: اگر عیدی خمس کی تاریخ تک استعمال نہ ہو اور عرف عام میں قابل توجہ شمار ہوتی ہو تو اسکا خمس دینا پڑے گا۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:311 | volume:0



627

Category : خمس

Question : جس شخص نے کبھی خمس نہ دیا ہو اور اس نے اپنی آمدنی ضروریات زندگی میں خرچ کی ہو لیکن اسے شک ہو کہ سال کے دوران خرچ کی ہے یا سال کے بعد خرچ کی ہے ایسی صورت میں خمس کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: اگر کسی شخص نے اپنی آ مدنی ضروریات زندگی میں خرچ کی ہو لیکن اسے نہیں معلوم ہو کہ سال کے دوران خرچ کی ہے یا سال کے بعد تو ایسی صورت میں احتیاط واجب کی بنا پر حاکم شرع سے مصالحت کرے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:333 | volume:0


Answer-2: اگر کسی شخص نے اپنی آ مدنی ضروریات زندگی میں خرچ کی ہو لیکن اسے نہیں معلوم ہو کہ سال کے دوران خرچ کی ہے یا سال کے بعد تو ایسی صورت میں احتیاط واجب کی بنا پر حاکم شرع سے مصالحت کرے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:273 | volume:0


Answer-3: اگر کسی شخص نے اپنی آ مدنی ضروریات زندگی میں خرچ کی ہو لیکن اسے نہیں معلوم ہو کہ سال کے دوران خرچ کی ہے یا سال کے بعد تو ایسی صورت میں احتیاط واجب کی بنا پر حاکم شرع سے مصالحت کرے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:309 | volume:0


Answer-4: اگر کسی شخص نے اپنی آ مدنی ضروریات زندگی میں خرچ کی ہو لیکن اسے نہیں معلوم ہو کہ سال کے دوران خرچ کی ہے یا سال کے بعد تو ایسی صورت میں احتیاط واجب کی بنا پر حاکم شرع سے مصالحت کرے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:318 | volume:0



628

Category : خمس

Question : نوکری یا تجارت سے حاصل ہونے والی درآمد اگر سال کے دوران امور زندگی میں خرچ ہو جا ئے تو خمس کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: نوکری یا تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی اگر سال کے دواران ضروریات زندگی میں حیثیت کے مطابق خرچ ہو جائے تو اسکا خمس واجب نہیں

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:329 | volume:0


Answer-2: نوکری یا تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی اگر سال کے دواران ضروریات زندگی میں حیثیت کے مطابق خرچ ہو جائے تو اسکا خمس واجب نہیں

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:270 | volume:0


Answer-3: نوکری یا تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی اگر سال کے دواران ضروریات زندگی میں حیثیت کے مطابق خرچ ہو جائے تو اسکا خمس واجب نہیں

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:305 | volume:0


Answer-4: نوکری یا تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی اگر سال کے دواران ضروریات زندگی میں حیثیت کے مطابق خرچ ہو جائے تو اسکا خمس واجب نہیں

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:315 | volume:0



629

Category : خمس

Question : اگر سرمایہ ارث یا مھر کی رقم سے تھیہ ہوا ہو تو اسکے خمس کا کیاحکم ہے ؟


Answer-1: اگر سرمایہ ارث یا مھر کی رقم سے تھیہ ہوا ہو تو اس پر خمس دینا واجب نہیں

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:325 | volume:0


Answer-2: اگر سرمایہ ارث یا مھر کی رقم سے تھیہ ہوا ہو تو اس پر خمس دینا واجب نہیں

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:267 | volume:0


Answer-3: اگر سرمایہ ارث یا مھر کی رقم سے تھیہ ہوا ہو تو اس پر خمس دینا واجب نہیں

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:311 | volume:0



630

Category : خمس

Question : نوکری یا تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی جس پر سال گذر گیا ہو اسکے خمس کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: نوکری یا تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی جس پر سال گذر جائے تو اس کا خمس دینا واجب ہے۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:325 | volume:0


Answer-2: نوکری یا تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی جس پر سال گذر جائے تو اس کا خمس دینا واجب ہے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:267 | volume:0


Answer-3: نوکری یا تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی جس پر سال گذر جائے تو اس کا خمس دینا واجب ہے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:302 | volume:0


Answer-4: نوکری یا تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی جس پر سال گذر جائے تو اس کا خمس دینا واجب ہے۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:311 | volume:0



631

Category : خمس

Question : ایسا شخص جس نے کبھی خمس نہیں دیا اگروہ اپنی آمدنی سے ضروریات زندگی کی اشیاء خریدے تو کیا اسے ان چیزوں کا خمس دینا پڑے گا؟


Answer-1: ایسا شخص جس نے کبھی خمس نہیں دیا اگر وہ سال کے دوران حاصل ہونے والی آمدنی سے ضروریات زندگی کی اشیاء خرید لے اور انھیں استعمال کرے جو اس کی شان کے مطابق بھی ہوں تو انکا خمس واجب نہیں

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:333 | volume:0


Answer-2: ایسا شخص جس نے کبھی خمس نہیں دیا اگر وہ سال کے دوران حاصل ہونے والی آمدنی سے ضروریات زندگی کی اشیاء خرید لے جو اس کی شان کے مطابق بھی ہوں تو انکا خمس واجب نہیں

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:273 | volume:0


Answer-3: ایسا شخص جس نے کبھی خمس نہیں دیا اگر وہ سال کے دوران حاصل ہونے والی آمدنی سے ضروریات زندگی کی اشیاء خرید لے جو اس کی شان کے مطابق بھی ہوں تو انکا خمس واجب نہیں

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:309 | volume:0


Answer-4: ایسا شخص جس نے کبھی خمس نہیں دیا اگر وہ سال کے دوران حاصل ہونے والی آمدنی سے ضروریات زندگی کی اشیاء خرید لے جو اس کی شان کے مطابق بھی ہوں تو انکا خمس واجب نہیں

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:318 | volume:0



632

Category : خمس

Question : کیا مھر کی رقم پر خمس دینا واجب ہے؟


Answer-1: مھر کی رقم پر خمس واجب نہیں ہوتا

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:325 | volume:0


Answer-2: مھر کی رقم پر خمس واجب نہیں ہوتا

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:266 | volume:0


Answer-3: مھر کی رقم پر خمس واجب نہیں ہوتا

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:302 | volume:0


Answer-4: مھر کی رقم پر خمس واجب نہیں ہوتا

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:311 | volume:0



633

Category : خمس

Question : خمس کے طور پر ملنے والے پیسے اگر سال کےآخر میں بچ جائیں تو اس پر خمس دینے کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: اگر کسی فقیر کو خمس اسکے استحقاق کے بنا پر دیا جائے اور وہ سال کے اختتام پر بچ جائے تواس کا خمس دینا واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:327 | volume:0


Answer-2: خمس کے طور پر ملنے والے پیسے اگر سال کے آخر میں بچ جائیں تو اس پر خمس دینا واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:268 | volume:0


Answer-3: اگر کسی فقیر کو خمس دیا جائے اور وہ اسکے سال کے اخراجات کے بعد بچ جائے تو اسے بچے ہوئے پیسے کاخمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:303 | volume:0


Answer-4: اگر کسی فقیر کو خمس دیا جائے اور وہ اسکے سال کے اخراجات کے بعد بچ جائے تو احتیاط واجب کی بنا پراسکا خمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:312 | volume:0



634

Category : زکات

Question : زکات میں ملنے والا مال اگر سال کے آخر میں بچ جائے تو کیا اسکا خمس دینا پڑے گا؟


Answer-1: اگر کسی فقیر کو زکات اسکے استحقاق کے بنا پر دی جائے اور وہ سال کے اختتام پر بچ جائے تواس کا خمس دینا واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:327 | volume:0


Answer-2: زکات کے طور پر ملنے والے پیسے اگر سال کے آخر میں بچ جائیں تو اس پر خمس دینا واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:268 | volume:0


Answer-3: اگر کسی فقیر کو زکات دی جائے اور وہ اسکے سال کے اخراجات کے بعد بچ جائے تو اسکا خمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:303 | volume:0


Answer-4: اگر کسی فقیر کوزکات دی جائے اور وہ اسکے سال کے اخراجات کے بعد بچ جائے تو احتیاط واجب کی بنا پر اسکا خمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:312 | volume:0



635

Category : خمس

Question : صدقے کے طور پر ملنے والے مال سے اگر سال کے آخر میں کچھ بچ جائے تو اسکے خمس کا کیا حکم ہے؟


Answer-1: اگر کسی کو واجب صدقے جیسے کفارہ یا ردّ مظالم یا مستجی صدقے کا کوئی مال ملے اور وہ اسکے سال کے اخراجات کےبعد بچ جائے تو احتیاط واجب کی بنا پر اسکا خمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:326 | volume:0


Answer-2: صدقے کے طور پر ملنے والے پیسے اگر سال کے آخر میں بچ جائیں تو انکا خمس دینا واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:268 | volume:0


Answer-3: اگر کسی فقیر کو صدقہ دیا جائے اور وہ اسکے سال کے اخراجات کے بعد بچ جائے تو اسکا خمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:303 | volume:0


Answer-4: اگر کسی فقیر کو صدقہ دیا جائے اور وہ اسکے سال کے اخراجات کے بعد بچ جائے تو اسکا خمس دینا پڑے گا

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:312 | volume:0



636

Category : نماز

Question : اگر کسی کو صبح کی نماز میں شک ہو کہ پہلی رکعت ہے یا دوسری رکعت توا س کی کیا ذمہ داری ہے ؟


Answer-1: اگر کسی کو صبح کی نماز میں شک ہو کہ پہلی رکعت پڑھ رہا ہے یا دوسری رکعت اور غور کرنے بعد بھی کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکے تو نماز باطل ہے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:288 | volume:0


Answer-2: اگر کسی کو صبح کی نماز میں شک ہو کہ پہلی رکعت پڑھ رہا ہے یا دوسری رکعت اور غور کرنے بعد بھی کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکے تو نماز باطل ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:183 | volume:0


Answer-3: اگر کسی کو صبح کی نماز میں شک ہو کہ پہلی رکعت پڑھ رہا ہے یا دوسری رکعت اور غور کرنے بعد بھی کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکے تو نماز باطل ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:202 | volume:0


Answer-4: اگر کسی کو صبح کی نماز میں شک ہو کہ پہلی رکعت پڑھ رہا ہے یا دوسری رکعت اور غور کرنے بعد بھی کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکے تو نماز باطل ہے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:211 | volume:0



637

Category : نماز

Question : اگر کسی کو مغرب کی نماز میں شک ہو کہ دوسری رکعت ہے یا تیسری رکعت تو اس کی کیا ذمہ داری ہے ؟


Answer-1: اگر کسی کو مغرب کی نما ز میں شک ہو کہ دوسری رکعت ہے یا تیسری رکعت اور غور کرنے کے بعد کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو نماز باطل ہے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:288 | volume:0


Answer-2: اگر کسی کو مغرب کی نما ز میں شک ہو کہ دوسری رکعت ہے یا تیسری رکعت اور غور کرنے کے بعد کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو نماز باطل ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:183 | volume:0


Answer-3: اگر کسی کو مغرب کی نما ز میں شک ہو کہ دوسری رکعت ہے یا تیسری رکعت اور غور کرنے کے بعد کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو نماز باطل ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:202 | volume:0


Answer-4: اگر کسی کو مغرب کی نما ز میں شک ہو کہ دوسری رکعت ہے یا تیسری رکعت اور غور کرنے کے بعد کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو نماز باطل ہے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:211 | volume:0



638

Category : خمس

Question : کیا سال کےاختتام پر بچنے والے راشن پر خمس دینا واجب ہے؟


Answer-1: سال کے اخؒتتام پربچنے والا راشن اگرا سی سال کی آمدنی سے خریدا گیا ہو تو اسکا خمس دینا واجب ہے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:330 | volume:0


Answer-2: سال کے اخؒتتام پربچنے والا راشن اگرا سی سال کی آمدنی سے خریدا گیا ہو تو اسکا خمس دینا واجب ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:271 | volume:0


Answer-3: سال کے اخؒتتام پربچنے والا راشن اگرا سی سال کی آمدنی سے خریدا گیا ہو تو اسکا خمس دینا واجب ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:306 | volume:0


Answer-4: سال کے اخؒتتام پربچنے والا راشن اگرا سی سال کی آمدنی سے خریدا گیا ہو تو اسکا خمس دینا واجب ہے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:316 | volume:0



639

Category : خمس

Question : سال کے اختتام پر بچنے والی اشیاء کا خمس کیسے دیا جائے گا؟


Answer-1: سال کے اختتام پر راشن سے بچنے والی اشیاء کا پانچواں حصہ یا اسکی خمس کی ادائیگی کے وقت کی قیمت کا پانچواں حصہ دینا واجب ہے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:330 | volume:0


Answer-2: سال کے اختتام پر راشن سے بچنے والی اشیاء کا پانچواں حصہ یا اسکی خمس کی ادائیگی کے وقت کی قیمت کا پانچواں حصہ دینا واجب ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:271 | volume:0


Answer-3: سال کے اختتام پر راشن سے بچنے والی اشیاء کا پانچواں حصہ یا اسکی خمس کی ادائیگی کے وقت کی قیمت کا پانچواں حصہ دینا واجب ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:306 | volume:0


Answer-4: سال کے اختتام پر راشن سے بچنے والی اشیاء کا پانچواں حصہ یا اسکی خمس کی ادائیگی کے وقت کی قیمت کا پانچواں حصہ دینا واجب ہے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:316 | volume:0



640

Category : نماز

Question : اگرکسی کو مغرب کی نما ز میں شک ہو کہ پہلی رکعت ہے یا دوسری رکعت تا اسکی کیا ذمہ داری ہے ؟


Answer-1: اگرکسی کو مغرب کی نما ز میں شک ہو کہ پہلی رکعت ہے یا دوسری رکعت اور غور کرنے کے بعد کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو اس کی نماز باطل ہے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:228 | volume:0


Answer-2: اگرکسی کو مغرب کی نما ز میں شک ہو کہ پہلی رکعت ہے یا دوسری رکعت اور غور کرنے کے بعد کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو اس کی نماز باطل ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:183 | volume:0


Answer-3: اگرکسی کو مغرب کی نما ز میں شک ہو کہ پہلی رکعت ہے یا دوسری رکعت اور غور کرنے کے بعد کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو اس کی نماز باطل ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:202 | volume:0


Answer-4: اگرکسی کو مغرب کی نما ز میں شک ہو کہ پہلی رکعت ہے یا دوسری رکعت اور غور کرنے کے بعد کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو اس کی نماز باطل ہے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:211 | volume:0



641

Category : خمس

Question : اگرکوئی شخص خمسی سال کے دوران حج پر جائے تو کیا اس حج پر خرچ ہونے والے پیسے کا خمس دینا پڑے گا ؟


Answer-1: اگرکوئی شخص خمسی سال کے دوران حج پر جائے تو اس پر خرچ ہونے والے پیسے پر خمس دینا واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:330 | volume:0


Answer-2: اگرکوئی شخص خمسی سال کے دوران حج پر جائے تو اس پر خرچ ہونے والے پیسے پر خمس دینا واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:315 | volume:0


Answer-3: اگرکوئی شخص خمسی سال کے دوران حج پر جائے تو اس پر خرچ ہونے والے پیسے پر خمس دینا واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:271 | volume:0


Answer-4: اگرکوئی شخص خمسی سال کے دوران حج پر جائے تو اس پر خرچ ہونے والے پیسے پر خمس دینا واجب نہیں ہے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:330 | volume:0



642

Category : بینک

Question : اسلامی پرائیوٹ بینک سے قرض لینے کا کیا حکم ہے؟


Answer-1: اسلامی پرائیوٹ بینک سے سود کی شرط پر قرض لینا حرام ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:551 | volume:0


Answer-2: اسلامی پرائیوٹ بینک سے سود کی شرط پر قرض لینا حرام ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:553 | volume:0


Answer-3: پرائیوٹ بینک سے سود کی بناء پر قرض لینا حرام ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:تحریر الوسیلہ | Page:554 | volume:2


Answer-4: اسلامی پرائیوٹ بینک سے سود کی شرط پر قرض لینا حرام ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:534 | volume:0



643

Category : نماز

Question : کن موارد میں سجدہ سہو واجب ہے ؟


Answer-1: نماز میں دو صورت میں سجدہ سہو واجب ہے 1- بھولے سے تشہد نہ پڑھے ۔ 2- دوسرے سجدے میں جانے کے بعد شک کرے کہ چوتھی رکعت ہے یا پانچویں البتہ تین صورتوں میں احتیاط واجب ہے کہ سجدہ سہو انجام دے ۔ 1- اجمالی طور پر جانتا ہو کہ غلطی سے نماز میں کچھ کم یا زیادہ ہوا ہے لیکن نماز صحیح ہے ۔ 2- غلطی سے کلام کرے ۔ 3- اضافی سلام پڑھے۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:243 | volume:0


Answer-2: نماز میں تین صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے ۔ 1- غلطی سے کلام کرے ۔ 2- بھولے سے تشھد نہ پڑھے ۔ 3- دوسرے سجدے کے واجب ذکر کے بعد شک کرے کہ چوتھی رکعت ہے یا پانچویں اور قیام کی حالت میں پانچویں اور چھٹی میں شک کرے ۔ البتہ دو صورتوں میں احتیاط واجب ہے کہ سجدہ سہو انجام دے ۔ 1- اضافی سلام پڑھنے پر ۔ 2- ایک سجدہ بھول جائے یا کوئی بھی چیز غلطی سے کم یا زیادہ کرے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:225 | volume:0


Answer-3: نماز میں تین صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے ۔ 1- بھولے سے کلام کرے ۔ 2- غلطی سے ایک سجدہ رہ جائے 3- دوسرے سجدے کے بعد شک کرے کہ چوتھی رکعت ہے یا پانچویں ۔ البتہ دو صورتوں میں احتیاط واجب ہے کہ سجدہ سہو انجام دے۔ 1- بھولے سے تشھد نہ پڑھے ۔ 2- اضافی سلام پڑھنے پر ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:196 | volume:0


Answer-4: نماز میں پانچ صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے ۔ 1- بھولے سے کلام کرے ۔ 2- بھولے سے تشھد نہ پڑھے ۔ 3- اضافی سلام پڑھے۔ 4- دوسرے سجدے کے بعد شک کرے کہ چوتھی رکعت ہے یا پانچویں ۔ 5- ایک سجدہ بھول جائے یا غلطی سے قیام کی جگہ بیٹھ جائے یا بیٹھنے کی جگہ قیام کرے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:216 | volume:0



644

Category : نماز

Question : اگر نماز احتیاط پڑھنے کے بعد معلوم ہوجائے کہ نماز میں جو کمی تھی وہ نماز احتیاط سے کم تھی مثلاً دو (2) رکعت نماز احتیاط کے بعد معلوم ہو کہ ایک رکعت نماز پڑھنی تھی تو کیا حکم ہے ؟


Answer-1: اگر نماز احتیاط پڑھنے کے بعد معلوم ہو کہ نماز میں جو کمی تھی وہ نماز احتیاط سے کم تھی مثلاً دو رکعت نماز احتیاط کے بعد معلوم ہو کہ ایک رکعت پڑھنی تھی تو واجب ہے نماز کو دوبارہ پڑھے۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:240 | volume:0


Answer-2: اگر نماز احتیاط کے بعد معلوم ہو کہ نماز جو کمی تھی وہ نماز احتیاط سے کم تھی مثلاً دو رکعت نماز احتیاط کے بعد معلوم ہو کہ ایک رکعت پڑھنی تھی تو لازم ہے ایک رکعت نماز اور پڑھے اور نماز کو دوبارہ بھی پڑھے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:193 | volume:0


Answer-3: اگر نماز احتیاط پڑھنے کے بعد معلوم ہو کہ نماز میں جو کمی تھی وہ نماز احتیاط سے کم تھی مثلاً دو رکعت نماز احتیاط کے بعد معلوم ہو کہ ایک رکعت پڑھنی تھی تو واجب ہے نماز کو دوبارہ پڑھے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:213 | volume:0


Answer-4: اگر نماز احتیاط پڑھنے کے بعد معلوم ہو کہ نماز میں جو کمی تھی وہ نماز احتیاط سے کم تھی مثلاً دو رکعت نماز احتیاط کے بعد معلوم ہو کہ ایک رکعت پڑھنی تھی تو واجب ہے نماز کو دوبارہ پڑھے۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:222 | volume:0



645

Category : نماز

Question : اگر نماز احتیاط سے پہلے معلوم ہوجائے کہ ایک رکعت کم پڑھی ہے اور نماز کو باطل کرنے والا کام انجام نہیں دیا تو کیا ذمہ داری ہے ؟


Answer-1: اگر نماز احتیاط سے پہلے معلوم ہوجائے کہ ایک رکعت کم پڑھی ہے اور نماز کو باطل کرنے والا کوئی عمل انجام نہیں دیا تو لازم ہے جو نہیں پڑھا اسے مکمل کرے اور اضافی سلام پڑھنے کی وجہ سے احتیاط لازم کی بناء پر دو سجدہ سہو انجام دے۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:240 | volume:0


Answer-2: اگر نماز احتیاط سے پہلے معلوم ہوجائے کہ ایک رکعت کم پڑھی ہے اور نماز کو باطل کرنے والا کوئی عمل انجام نہیں دیا تو لازم ہے جو نہیں پڑھا اسے مکمل کرے اور اضافی سلام پڑھنے کی وجہ سے دو سجدہ سہو انجام دے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:193 | volume:0


Answer-3: اگر نماز احتیاط سے پہلے معلوم ہوجائے کہ ایک رکعت کم پڑھی ہے اور نماز کو باطل کرنے والا کوئی عمل انجام نہیں دیا تو لازم ہے جو نہیں پڑھا اسے مکمل کرے اور اضافی سلام پڑھنے کی وجہ سے دو سجدہ سہو انجام دے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:213 | volume:0


Answer-4: اگر نماز احتیاط سے پہلے معلوم ہوجائے کہ ایک رکعت کم پڑھی ہے اور نماز کو باطل کرنے والا کوئی عمل انجام نہیں دیا تو لازم ہے جو نہیں پڑھا اسے مکمل کرے اور اضافی سلام پڑھنے کی وجہ سے احتیاط لازم کی بناء پر دو سجدہ سہو انجام دے۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:222 | volume:0



646

Category : نماز

Question : نماز احتیاط میں نیت کے لئے الفاظ کی ادائیگی ضروری ہے ؟


Answer-1: نماز احتیاط میں لازم ہے کہ نیت زبان سے ادا نہ کرے۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:239 | volume:0


Answer-2: نماز احتیاط میں لازم ہے کہ نیت زبان سے ادا نہ کرے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:193 | volume:0


Answer-3: نماز احتیاط میں لازم ہے کہ نیت زبان سے ادا نہ کرے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:212 | volume:0


Answer-4: نماز احتیاط میں لازم ہے کہ نیت زبان سے ادا نہ کرے۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:222 | volume:0



647

Category : طہارت

Question : کیا کتے یا سور کی کھال کو استعمال کرنا جائز ہے ؟


Answer-1: کتے یا سور کی کھال کا استعمال اگر ظروف کے طور پر نہ ہو تو بھی بناء پر احتیاط مستحب استعمال نہ کرے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:45 | volume:0


Answer-2: کتے یا سور کی کھال کا استعمال اگر ظروف کے طور پر نہ ہو تو بھی بناء بر احتیاط واجب اس کے استعمال سے پرہیز کرے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:34 | volume:0


Answer-3: کتے یا سور کی کھال کا استعمال اگر ظروف کے طور پر نہ ہو تو بھی بناء پر احتیاط مستحب استعمال نہ کرے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:40 | volume:0


Answer-4: کتے یا سور کی کھال کا استعمال اگر ظروف کے طور پر نہ ہو تو بھی بناء پر احتیاط مستحب استعمال نہ کرے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:41 | volume:0



648

Category : بینک

Question : حکومتی بینک سے قرض لینے کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: اسلامی مملکت میں حکومتی بینک سے سود کی شرط پر قرض لینا جائز نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:552 | volume:0


Answer-2: حکومتی بینک سے سود کی بناء پر قرض لینا حرام ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:تحریر الوسیلہ | Page:554 | volume:2


Answer-3: اسلامی مملکت میں حکومتی بینک سے سود کی شرط پر قرض لینا جائز نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:535 | volume:0


Answer-4: اسلامی مملکت میں حکومتی بینک سے سود کی شرط پر قرض لینا جائز نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:553 | volume:0



649

Category : وقف

Question : کیا انسان کسی چیز کو وقف کرنے کے بعد واپس لے سکتا ہے ؟


Answer-1: کسی بھی چیز کو وقف کرنے کے بعد انسان اس چیز کا مالک نہیں رہتا ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:527 | volume:0


Answer-2: کسی بھی چیز کو وقف کرنے کے بعد انسان اس چیز کا مالک نہیں رہتا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:429 | volume:0


Answer-3: کسی بھی چیز کو وقف کرنے کے بعد انسان اس چیز کا مالک نہیں رہتا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:487 | volume:0


Answer-4: کسی بھی چیز کو وقف کرنے کے بعد انسان اس چیز کا مالک نہیں رہتا ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:527 | volume:0



650

Category : وقف

Question : کیا اردو زبان میں کہنے سے کہ یہ سجدہ گاہ مسجد کیلئے وقف کردی وقف ہوجائے گی ؟


Answer-1: اردو زبان میں یا کسی بھی زبان میں اگر اسطرح کہا جائے کہ یہ سجدہ گاہ مسجد کیلئے وقف کردی تو وقف ہو جا ئے گی۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:527 | volume:0


Answer-2: اردو زبان میں یا کسی بھی زبان میں اگر اسطرح کہا جائے کہ یہ سجدہ گاہ مسجد کیلئے وقف کردی تو وقف ہو جا ئے گی۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:429 | volume:0


Answer-3: اردو زبان میں یا کسی بھی زبان میں اگر اسطرح کہا جائے کہ یہ سجدہ گاہ مسجد کیلئے وقف کردی تو وقف ہو جا ئے گی۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:487 | volume:0


Answer-4: اردو زبان میں یا کسی بھی زبان میں اگر اسطرح کہا جائے کہ یہ سجدہ گاہ مسجد کیلئے وقف کردی تو وقف ہو جا ئے گی۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:526 | volume:0



651

Category : وقف

Question : کیا وقف کرنے کیلئے وقف کا صیغہ پڑھنا ضروری ہے؟


Answer-1: کسی چیز کے وقف کرنے کیلئے صیغہ پڑھنا ضروری نہیں ہے بلکہ اگر وقف کے ارادے سے کوئی عمل انجام دے دیا جائے تب بھی وقف ہوجائے گا ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:527 | volume:0


Answer-2: کسی چیز کے وقف کرنے کیلئے صیغہ پڑھنا ضروری نہیں ہے بلکہ اگر وقف کے ارادے سے کوئی عمل انجام دے دیا جائے تب بھی وقف ہوجائے گا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:487 | volume:0


Answer-3: کسی چیز کے وقف کرنے کیلئے صیغہ پڑھنا ضروری نہیں ہے بلکہ اگر وقف کے ارادے سے کوئی عمل انجام دے دیا جائے تب بھی وقف ہوجائے گا ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:527 | volume:0



652

Category : وقف

Question : اگر کوئی کسی چیز کو وقف کیلئے معین کرے لیکن وقف کرنے سے پہلے ارادہ بدل دے تو وقف کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: اگر کوئی شخص کسی چیز کو وقف کیلئے معین کرے اور وقف کرنے سے پہلے ارادہ بدل دے تو وقف نہیں ہوگا۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:527 | volume:0


Answer-2: اگر کوئی شخص کسی چیز کو وقف کیلئے معین کرے اور وقف کرنے سے پہلے ارادہ بدل دے تو وقف نہیں ہوگا۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:429 | volume:0


Answer-3: اگر کوئی شخص کسی چیز کو وقف کیلئے معین کرے اور وقف کرنے سے پہلے ارادہ بدل دے تو وقف نہیں ہوگا۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:487 | volume:0


Answer-4: اگر کوئی شخص کسی چیز کو وقف کیلئے معین کرے اور وقف کرنے سے پہلے ارادہ بدل دے تو وقف نہیں ہوگا۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:527 | volume:0



653

Category : وقف

Question : اگر کوئی کسی چیز کو وقف کیلئے معین کرے لیکن وقف کرنے سے پہلے اسکی وفات ہوجائے تو وقف کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: اگر کوئی شخص کسی چیز کو وقف کیلئے معین کرے لیکن وقف کرنے سے پہلے اسکی وفات ہوجائے تو وقف نہیں ہوگا ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:527 | volume:0


Answer-2: اگر کوئی شخص کسی چیز کو وقف کیلئے معین کرے لیکن وقف کرنے سے پہلے اسکی وفات ہوجائے تو وقف نہیں ہوگا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:429 | volume:0


Answer-3: اگر کوئی شخص کسی چیز کو وقف کیلئے معین کرے لیکن وقف کرنے سے پہلے اسکی وفات ہوجائے تو وقف نہیں ہوگا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:487 | volume:0


Answer-4: اگر کوئی شخص کسی چیز کو وقف کیلئے معین کرے لیکن وقف کرنے سے پہلے اسکی وفات ہوجائے تو وقف نہیں ہوگا ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:527 | volume:0



654

Category : نذر

Question : واجب کام کو مخصوص مقام پر انجام دینے کی نذر(منت) ماننے کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: واجب کام کو مخصوص مقام پر جیسے کسی خاص کمرے میں انجام دینے کی نذر کرنا اگر شرعی لحاظ سے بہتر ہو مثلاً وہاں خلوت ہے اسلئے حضور قلب پیدا ہوگا اگر نذر اس لحاظ سے ہو تو صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:521 | volume:0


Answer-2: واجب کام کو مخصوص مقام پر جیسے کسی خاص کمرے میں انجام دینے کی نذر کرنا اگر شرعی لحاظ سے بہتر ہو مثلاً وہاں خلوت ہے اسلئے حضور قلب پیدا ہوگا تو صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:424 | volume:0


Answer-3: واجب کام کو مخصوص مقام پر جیسے کسی خاص کمرے میں انجام دینے کی نذر کرنا اگر شرعی لحاظ سے بہتر ہو مثلاً وہاں خلوت ہے اسلئے حضور قلب پیدا ہوگا تو صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:481 | volume:0


Answer-4: واجب کام کو مخصوص مقام پر جیسے کسی خاص کمرے میں انجام دینے کی نذر کرنا اگر شرعی لحاظ سے بہتر ہو مثلاً وہاں خلوت ہے اسلئے حضور قلب پیدا ہوگا تو صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:520 | volume:0



655

Category : کرایہ کے احکام

Question : اگر ڈاکٹر مریض سے کہے نقصان ہو نےکی صورت میں ذمہ دار نہیں ہوں اور مریض کو ضرر ہوجائے تو کیا حکم ہوگا ؟


Answer-1: اگر ڈاکٹر مریض سے کہے ضرر کی صورت میں ذمہ دار نہیں ہوں گا اور مریض کو ضرر پہنچ جائے تو چنانچہ اس نے احتیاط اور دقت سے علاج کیا ہو تو ذمہ دار نہیں ہوگا ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:417 | volume:0


Answer-2: اگر ڈاکٹر مریض سے کہے ضرر کی صورت میں ذمہ دار نہیں ہوں گا اور مریض کو ضرر پہنچ جائے تو چنانچہ اس نے احتیاط اور دقت سے علاج کیا ہو تو ذمہ دار نہیں ہوگا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:341 | volume:0


Answer-3: اگر ڈاکٹر مریض سے کہے ضرر کی صورت میں ذمہ دار نہیں ہوں گا اور مریض کو ضرر پہنچ جائے تو چنانچہ اس نے احتیاط اور دقت سے علاج کیا ہو تو ذمہ دار نہیں ہوگا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:385 | volume:0


Answer-4: اگر ڈاکٹر مریض سے کہے ضرر کی صورت میں ذمہ دار نہیں ہوں گا اور مریض کو ضرر پہنچ جائے تو چنانچہ وہ ماہر ہو احتیاط اور دقت سے علاج کیا ہو تو ذمہ دار نہیں ہوگا ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:407 | volume:0



656

Category : نماز

Question : اگر کوئی سجدہ سہو کو انجام دینا بھول جائے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: اگر کوئی سجدہ سہو کو انجام دینا بھول جائے جب بھی یاد آئے فوری انجام دے ۔ نماز صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:244 | volume:0


Answer-2: اگر کوئی سجدہ سہو کو انجام دینا بھول جائے جب بھی یاد آئے فوری انجام دے ۔ نماز صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:197 | volume:0


Answer-3: اگر کوئی سجدہ سہو کو انجام دینا بھول جائے جب بھی یاد آئے تو احتیاط واجب کی بناء پر فوری انجام دے ۔ نماز صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:217 | volume:0


Answer-4: اگر کوئی سجدہ سہو کو انجام دینا بھول جائے جب یاد آئے تو احتیاط واجب کی بناء پر فوری انجام دے ۔ نماز صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:227 | volume:0



657

Category : وقف

Question : کیا اپنی اولاد کیلئے کسی چیز کو وقف کرنے میں اولاد کا باپ کی زندگی میں تصرف کرنا ضروری ہے ؟


Answer-1: اولاد کیلئے کسی چیز کو وقف کرنے کی صورت میں ضروری ہے کہ خود اولاد یا وکیل یا ولی کے تصرف میں وہ چیز دی جائے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:527 | volume:0


Answer-2: اولاد کیلئے کسی چیز کو وقف کرنے کی صورت میں ضروری ہے کہ خود اولاد یا وکیل یا ولی کے تصرف میں وہ چیز دی جائے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:429 | volume:0


Answer-3: اولاد کیلئے کسی چیز کو وقف کرنے کی صورت میں ضروری ہے کہ خود اولاد یا وکیل یا ولی کے تصرف میں وہ چیز دی جائے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:488 | volume:0


Answer-4: اولاد کیلئے کسی چیز کو وقف کرنے کی صورت میں ضروری ہے کہ خود اولاد یا وکیل یا ولی کے تصرف میں وہ چیز دی جائے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:527 | volume:0



658

Category : وقف

Question : کیا نابالغ بچوں کیلئے کسی چیز کے وقف کرتے وقت انکے تصرف میں لانا ضروری ہے ؟


Answer-1: اگر باپ اپنے نابالغ بچوں کیلئے کسی چیز کو وقف کرے اور وہ چیز خود باپ کے پاس موجود ہو تو وقف صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:528 | volume:0


Answer-2: اگر باپ اپنے نابالغ بچوں کیلئے کسی چیز کو وقف کرے اور وہ چیز خود باپ ان بچوں کی طرف سے اپنے اختیار میں لے لے تو وقف صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:429 | volume:0


Answer-3: اگر باپ اپنے نابالغ بچوں کیلئے کسی چیز کو وقف کرے اور وہ چیز خود باپ ان بچوں کی ملکیت کے عنوان سے اپنے اختیار میں لے لے تو وقف صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:488 | volume:0


Answer-4: اگر باپ اپنے نابالغ بچوں کیلئے کسی چیز کو وقف کرے اور وہ چیز خود باپ ان بچوں کی ملکیت کے عنوان سے اپنے اختیار میں لے لے تو وقف صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:528 | volume:0



659

Category : وقف

Question : کیا ان افراد کیلئے کسی چیز کو وقف کیا جاسکتا ہے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے ؟


Answer-1: اگر ایسے افراد کیلئے کسی چیز کو وقف کرے جو فی الحال موجود ہوں اسکے بعد انکے لئے وقف کرے جو بعد میں آئیں گے اگر چہ ابھی پیدا نہ ہوں تو وقف صحیح ہے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:528 | volume:0


Answer-2: اگر ایسے افراد کیلئے کسی چیز کو وقف کرے جو ابھی موجود ہوں اسکے بعد انکے لئے جو بعد میں آئیں گے اور انکے ساتھ شریک ہوں گے تو وقف صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:430 | volume:0


Answer-3: اگر ایسے افراد کیلئے کسی چیز کو وقف کرے جو فی الحال موجود ہوں اسکے بعد انکے لئے وقف کرے جو بعد میں آئیں گے اگر چہ ابھی پیدا نہ ہوں تو وقف صحیح ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:488 | volume:0


Answer-4: اگر ایسے افراد کیلئے کسی چیز کو وقف کرے جو فی الحال موجود ہوں اسکے بعد انکے لئے وقف کرے جو بعد میں آئیں گے اگر چہ ابھی پیدا نہ ہوں تو وقف صحیح ہے

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:528 | volume:0



660

Category : وقف

Question : کیا عام اوقاف جیسے مساجد میں اختیار اور تصرف کرنا ضروری ہے ؟


Answer-1: عام اوقاف جیسے مساجد میں تصرف و اختیار میں لینا ضروری نہیں ہے بلکہ صرفِ وقف کرنے سے وقف ہوجائے گا ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:528 | volume:0


Answer-2: عام اوقاف جیسے مساجد وقف کرنے میں اگر وقف کرنے والا وقف کے ارادے سے اجازت دے اور اسمیں کوئی شخص نماز پرھ دے تو وقف صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:430 | volume:0


Answer-3: عام اوقاف جیسے مساجد میں تصرف و اختیار میں لینا ضروری نہیں ہے بلکہ صرفِ وقف کرنے سے وقف ہوجائے گا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:488 | volume:0


Answer-4: عام اوقاف جیسے مساجد میں تصرف و اختیار میں لینا ضروری نہیں ہے ،اگر چہ تصرف بہتر ہے اور تصرف جیسے وہاں اگر کوئی نماز پڑھ لے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:528 | volume:0



661

Category : طہارت

Question : مسح کرتے وقت سر یا پاؤں کو کتنا خشک ہونا چا ہیے ؟


Answer-1: مسح کرتے وقت سر یا پاؤں اتنا خشک ہو اگر ہاتھوں کی تری اثر انداز ہوجائے تو کافی ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:50 | volume:0


Answer-2: مسح کرتے وقت سر یا پاؤں اتنا خشک ہو اگر ہاتھوں کی تری اثر انداز ہوجائے تو کافی ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:38 | volume:0


Answer-3: مسح کرتے وقت سر یا پاؤں اتنا خشک ہو اگر ہاتھوں کی تری اثر انداز ہوجائے تو کافی ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:44 | volume:0


Answer-4: مسح کرتے وقت سر یا پاؤں اتنا خشک ہو اگر ہاتھوں کی تری اثر انداز ہوجائے تو کافی ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:45 | volume:0



662

Category : طہارت

Question : وضو میں چہرہ دھوتے وقت پانی کی مقدار کتنی ہونی چاہیے؟


Answer-1: وضو میں چہرہ دھوتے وقت پانی کی اتنی مقدار جس سے چہرہ تر ہوجائے یعنی ہاتھوں کی تری چہرے کو گھیر لے ، کافی ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:48 | volume:0


Answer-2: وضو میں چہرہ دھوتے وقت پانی کی اتنی مقدار جس سے چہرہ تر ہوجائے اور ہاتھوں کو پھیرنے سے پانی تھوڑا چہرے پر جاری ہو تو کافی ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:36 | volume:0


Answer-3: وضو میں چہرہ دھوتے وقت پانی کی اتنی مقدار جس سے چہرہ تر ہوجائے اور ہاتھوں کو پھیرنے سے پانی تھوڑا چہرے پر جاری ہو تو کافی ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:43 | volume:0


Answer-4: وضو میں چہرہ دھوتے وقت پانی کی اتنی مقدار جس سے چہرہ تر ہوجائے اور ہاتھوں کو پھیرنے سے پانی تھوڑا چہرے پر جاری ہو تو کافی ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:44 | volume:0



663

Category : بینک

Question : حکومتی بینک سے سود کی شرط پر قرض لینا حرام ہے کیا اس سے بچنے کا کو ئی راستہ ہے ؟


Answer-1: حکومتی بینک سے قرض لینے والا حاکم شرع کی طرف سے قرض لینے کی نیت سےسے سود کی ادائیگی کے ساتھ قرض لے سکتا ہے،(درضمن آقائی سیستانی نے تمام مومنین کو اجازت دی ہوئی ہے)

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:552 | volume:0


Answer-2: حکومتی بینک سے سود سے بچنے کی کوئی راہ نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:496 | volume:0


Answer-3: اگر حاکم شرع یا اسکے وکیل کی اجازت سے پیسے کو بینک سے مجھول المالک کے عنوان سے لے لے اور جہاں سود سے بچ نہیں سکتا وہاں زیادہ دینے میں کوئی حرج نہیں ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:535 | volume:0


Answer-4: اگر قرض لینے والا بینک یا اسکے وکیل کو کوئی چیز بازار کی قیمت سے مثلاً ٪10 کم قیمت پر بیچے اور اسکو پابند کرے کہ بینک مبلغ معین مدّت معیّن تک قرض دے تو سود سے بچ جائے گا۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:553 | volume:0



664

Category : کھانے پینے کے احکام

Question : اگر مچھلی پانی کے اندر شکاری کے جال میں مر جائے تو اسکا کھانا حلال ہے یا حرام ؟


Answer-1: اگر مچھلی شکاری کے جال میں پانی کے اندر مرجائے تو اسکا کھانا حلال ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:512 | volume:0


Answer-2: اگر مچھلی شکاری کے جال میں پانی کے اندر مرجائے تو اسکا کھانا حلال نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:تحریر الوسیلہ | Page:127 | volume:2


Answer-3: اگر مچھلی شکاری کے جال میں پانی کے اندر مرجائے تو اسکا کھانا حلال ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:472 | volume:0


Answer-4: اگر مچھلی شکاری کے جال میں پانی کے اندر مرجائے تو اسکا کھانا حلال ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:511 | volume:0



665

Category : کھانے پینے کے احکام

Question : اگر مچھلی کا شکار کرنے ولا ہندو ہو تو کیا اس سے مچھلی کھانے کیلئے لے سکتے ہیں ؟


Answer-1: ہندو سے حلال مچھلی کھانے کیلئے لے سکتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:513 | volume:0


Answer-2: ہندو سے حلال مچھلی کھانے کیلئے لے سکتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:418 | volume:0


Answer-3: ہندو سے حلال مچھلی کھانے کیلئے لے سکتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:473 | volume:0


Answer-4: ہندو سے حلال مچھلی کھانے کیلئے لے سکتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:512 | volume:0



666

Category : طہارت

Question : اگر کوئی نجس چیز کسی کے اختیار میں ہو اور وہ کہے کہ میں نے اسے پاک کرلیا ہے تو اس نجس چیز کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: اگر نجس چیز کسی کے اختیار میں ہو اور وہ کہے کہ میں نے اسے پاک کر لیا ہے اگر وہ شخص مورد تہمت نہ ہو تو وہ چیز پاک ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:44 | volume:0


Answer-2: اگر نجس چیز کسی کے اختیارمیں ہو اور وہ کہے کہ میں نے اُسے پاک کرلیا ہے تو وہ چیز پاک ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:34 | volume:0


Answer-3: اگر نجس چیز کسی کے اختیارمیں ہو اور وہ کہے کہ میں نے اُسے پاک کرلیا ہے تو وہ چیز پاک ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:39 | volume:0


Answer-4: اگر نجس چیز کسی کے اختیار میں ہو اور وہ کہے کہ میں نے اسے پاک کرلیا ہے اگر وہ شخص نجاست و طہارت کے معاملے میں لاابالی کا موردِ تہمت نہ ہو تو وہ چیز پاک ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:41 | volume:0



667

Category : طہارت

Question : کیا وضو میں بعض اعضاء کو ارتماسی اور بعض اعضاء کو عام طریقے سے دھوسکتے ہیں ؟


Answer-1: جی ہاں بعض اعضاء کو ارتماسی اور بعض اعضاء کو عام طریقے سے دھوسکتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:50 | volume:0


Answer-2: جی ہاں بعض اعضاء کو ارتماسی اور بعض اعضاء کو عام طریقے سے دھوسکتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:39 | volume:0


Answer-3: جی ہاں بعض اعضاء کو ارتماسی اور بعض اعضاء کو عام طریقے سے دھوسکتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:45 | volume:0


Answer-4: جی ہاں بعض اعضاء کو ارتماسی اور بعض اعضاء کو عام طریقے سے دھوسکتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:46 | volume:0



668

Category : طہارت

Question : اگر کسی کے پاؤں کے مسح کی جگہہ نجس ہو اور وہ اسے پاک نہ کرسکے تو اُس کا وظیفہ کیا ہے ؟


Answer-1: اگر پاؤں کے مسح کی جگہہ نجس ہے اور وہ اسے پاک بھی نہ کرسکتا ہو تو پھر اس کا وظیفہ تیمم ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:50 | volume:0


Answer-2: اگر پاؤں کے مسح کی جگہہ نجس ہے اور وہ اسے پاک بھی نہ کرسکتا ہو تو پھر اس کا وظیفہ تیمم ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:38 | volume:0


Answer-3: اگر پاؤں کے مسح کی جگہہ نجس ہے اور وہ اسے پاک بھی نہ کرسکتا ہو تو پھر اس کا وظیفہ تیمم ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:45 | volume:0


Answer-4: اگر پاؤں کے مسح کی جگہہ نجس ہے اور وہ اسے پاک بھی نہ کرسکتا ہو تو پھر اس کا وظیفہ تیمم ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:46 | volume:0



669

Category : طہارت

Question : کیا وضو ارتماسی کرسکتے ہیں ؟


Answer-1: جی ہاں وضو ارتماسی بھی ہوسکتا ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ چہرے اور ہاتھوں کو پانی میں وضو کے قصد سے ڈوبوئیں اور چہرے کو پیشانی کی جانب سے جبکہ ہاتھوں کو کہنیوں کی جانب سے باہر نکالیں ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:50 | volume:0


Answer-2: جی ہاں کرسکتے ہیں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ چہرے اور ہاتھوں کو پانی میں وضو کے قصد سے اوپر سے نیچے کی رعایت کرتے ہوئے ڈبوئیں لیکن ہاتھوں کو باہر نکالتے وقت وضو کیلئے دھونے کا قصد کریں یا اُلٹے ہاتھ کی کچھ مقدار کو ارتماسی طریقے سے نہیں بلکہ عام طریقے سے دھوئیں تاکہ مسح وضو کے پانی سے ہوسکے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:38 | volume:0


Answer-3: ہاں کرسکتے ہیں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ چہرے اور ہاتھوں کو پانی میں وضو کے قصد سے ڈبوئیں لیکن ارتماسی طریقے سے کئے گئے وضو سے مسح کرنا اشکال رکھتا ہے لہذا اُلٹے ہاتھ کا ارتماسی وضو نہ کرے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:45 | volume:0


Answer-4: جی ہاں وضو ارتماسی بھی ہوسکتا ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ چہرے اور ہاتھوں کو وضو کے قصد سے پانی میں ڈبوئیں البتہ ارتماسی وضو کی تری سے مسح کرنا اشکال رکھتا ہے لہذا اُلٹے ہاتھ کو مکمل پانی میں نہ ڈالیں بلکہ کچھ حصہ ہتھیلی کی طرف کا حصہ ہاتھوں سے دھوئیں ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:46 | volume:0



670

Category : کھانے پینے کے احکام

Question : اگر شک ہو کہ مچھلی زندہ پکڑی گئی تھی یا مردہ تو کیا اسکو خرید سکتے ہیں ؟


Answer-1: اگر شک ہو کہ مچھلی زندہ پکڑی گئی تھی یا مردہ تو اگر مسلمان کے قبضے میں ہو اور وہ حلال تصّرف کررہا ہو مثلاً بیچ رہا ہو یا کھارہا ہو تو خرید سکتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:513 | volume:0


Answer-2: اگر شک ہو کہ مچھلی زندہ پکڑی گئی تھی یا مردہ تو اگر مسلمان کے قبضے میں ہو تو حلال ہے خرید سکتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:418 | volume:0


Answer-3: اگر شک ہو کہ مچھلی زندہ پکڑی گئی تھی یا مردہ تو اگر مسلمان کے قبضے میں ہو تو حلال ہے خرید سکتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:473 | volume:0


Answer-4: اگر شک ہو کہ مچھلی زندہ پکڑی گئی تھی یا مردہ تو اگر مسلمان کے قبضے میں ہو تو حلال ہے اوراسے خرید سکتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:512 | volume:0



671

Category : کھانے پینے کے احکام

Question : جو مچھلی کا شکار کرتا ہے کیا اسکے لیئے شکار کے وقت اللہ کا نام لینا ضروری ہے ؟


Answer-1: مچھلی کا شکار کرتے وقت اللہ کا نام لینا ضروری نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:513 | volume:0


Answer-2: مچھلی کا شکار کرتے وقت اللہ کا نام لینا ضروری نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:418 | volume:0


Answer-3: مچھلی کا شکار کرتے وقت اللہ کا نام لینا ضروری نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:473 | volume:0


Answer-4: مچھلی کا شکار کرتے وقت اللہ کا نام لینا ضروری نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:512 | volume:0



672

Category : طہارت

Question : کیا حلال جانور کا پیشاب اور پائخانہ پاک ہے جسے انسانی فضلہ کھانے کی عادت ہوچکی ہو ؟


Answer-1: جس حلال جانور کو انسانی فضلہ کھانے کی عادت ہوچکی ہو اسکا پیشاب اور پائخانہ نجس ہے البتہ اگر ایسے جانور کا استبراء کرلیا جائے تو پھر پاک ہوجائے گا ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:44 | volume:0


Answer-2: جس حلال جانور کو انسانی فضلہ کھانے کی عادت ہوچکی ہو اسکا پیشاب اور پائخانہ نجس ہے البتہ اگر ایسے جانور کا استبراء کرلیا جائے تو پھر پاک ہوجائے گا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:34 | volume:0


Answer-3: جس حلال جانور کو انسانی فضلہ کھانے کی عادت ہوچکی ہو اسکا پیشاب اور پائخانہ نجس ہے البتہ اگر ایسے جانور کا استبراء کرلیا جائے تو پھر پاک ہوجائے گا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:38 | volume:0


Answer-4: جس حلال جانور کو انسانی فضلہ کھانے کی عادت ہوچکی ہو اسکا پیشاب اور پائخانہ نجس ہے البتہ اگر ایسے جانور کا استبراء کرلیا جائے تو پھر پاک ہوجائے گا ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:40 | volume:0



673

Category : نذر

Question : اگر باپ کسی عمل کے انجام دینے سے منع کرے لیکن اولاد اسکی منت(نذر) کرلے تو ایسی نذر کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: اگر باپ کسی عمل کے انجام دینے سے منع کرے اور اسکا منع کرنا شفقت کی بناء پر ہو اور اسکی مخالفت کرنے سے اسے تکلیف ہوتی ہو تو ایسے عمل کی نذر باطل ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:521 | volume:0


Answer-2: اگر باپ کسی عمل کے انجام دینے سے منع کرے اسکی نذر کرنا جائز ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:تحریر الوسیلہ | Page:103 | volume:2


Answer-3: اگر باپ کسی عمل کے انجام دینے سے منع کرے جبکہ اولاد اسکی نذر کرلے تو اولاد کی نذر (منت) ختم ہوجائے گی ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:481 | volume:0


Answer-4: اگر باپ کسی عمل کے انجام دینے سے منع کرے جبکہ اولاد اسکی نذر کرلے تو اولاد کی نذر (منت) صحیح نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:520 | volume:0



674

Category : نذر

Question : زوجہ کا شادی سے پہلے مانی جانے والی نذر(منت) پر شادی کے بعد عمل کرنے کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: زوجہ کا شادی سے پہلے مانی جانے والی نذر(منت) اگر شوہر کے ازدواجی حقوق سے منافات رکھتی ہو تو شادی کے بعد عمل کرنا صحیح نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:520 | volume:0


Answer-2: زوجہ کا شوہر کی اجازت کے بغیر مانی جانے والی نذر (منت) باطل ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:423 | volume:0


Answer-3: زوجہ کا شادی سے پہلے مانی جانے والی نذر(منت) اگر شوہر کے ازدواجی حقوق سے منافات رکھتی ہو تو شادی کے بعد عمل کرنا صحیح نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:480 | volume:0


Answer-4: زوجہ کا شادی سے پہلے مانی جانے والی نذر(منت) اگر شوہر کے ازدواجی حقوق سے منافات رکھتی ہو تو شادی کے بعد عمل کرنا صحیح نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:519 | volume:0



675

Category : نماز

Question : اگر نماز احتیاط پڑھنے کے بعد معلوم ہوجائے کہ جو نماز میں کمی تھی وہ نماز احتیاط کے برابر تھی تو نماز کا کیا حکم ہے؟


Answer-1: اگر نماز احتیاط پڑھنے کے بعد معلوم ہوجائے کہ جو نماز میں کمی تھی وہ نماز احتیاط کے برابر تھی تو اس کی نماز صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:240 | volume:0


Answer-2: اگر نماز احتیاط پڑھنے کے بعد معلوم ہوجائے کہ جو نماز میں کمی تھی وہ نماز احتیاط کے برابر تھی تو اس کی نماز صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:193 | volume:0


Answer-3: اگر نماز احتیاط پڑھنے کے بعد معلوم ہوجائے کہ جو نماز میں کمی تھی وہ نماز احتیاط کے برابر تھی تو اس کی نماز صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:213 | volume:0


Answer-4: اگر نماز احتیاط پڑھنے کے بعد معلوم ہوجائے کہ جو نماز میں کمی تھی وہ نماز احتیاط کے برابر تھی تو اس کی نماز صحیح ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:222 | volume:0



676

Category : نذر

Question : کیا کسی کے مجبور کرنے پر مانی جانے والی نذر(منت) پر عمل کرنا ضروری ہے ؟


Answer-1: کسی کے مجبور کرنے پر مانی جانے والی نذر(منت) پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:520 | volume:0


Answer-2: کسی کے مجبور کرنے پر مانی جانے والی نذر(منت) پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:423 | volume:0


Answer-3: کسی کے مجبور کرنے پر مانی جانے والی نذر(منت) پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:480 | volume:0


Answer-4: کسی کے مجبور کرنے پر مانی جانے والی نذر(منت) پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:519 | volume:0



677

Category : نذر

Question : کیا غصے کی حالت میں ارادے کے بغیر مانی جانے والی نذر(منت) پر عمل کرنا ضروری ہے ؟


Answer-1: غصے کی حالت میں ارادے کے بغیر مانی جانے والی نذر(منت) پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:520 | volume:0


Answer-2: غصے کی حالت میں ارادے کے بغیر مانی جانے والی نذر(منت) پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:423 | volume:0


Answer-3: غصے کی حالت میں ارادے کے بغیر مانی جانے والی نذر(منت) پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:480 | volume:0


Answer-4: غصے کی حالت میں ارادے کے بغیر مانی جانے والی نذر(منت) پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:519 | volume:0



678

Category : منت

Question : اگر ماں کسی عمل کے انجام دینے سے منع کرے لیکن اولاد اسکی منت (نذر) کرلے تو ایسی نذر کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: اگر ماں کسی عمل کے انجام دینے سے منع کرے اور اس کا منع کرنا شفقت کی بناء پر ہو اور اسکی مخالفت کرنے سے اسے تکلیف ہوتی ہو ایسے عمل کی نذر باطل ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:521 | volume:0


Answer-2: اگر ماں کسی عمل کے انجام دینے سے منع کرے اس کی نذر کرنا جائز ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:تحریر الوسیلہ | Page:103 | volume:2


Answer-3: اگر ماں کسی عمل کے انجام دینے سے منع کرے تو اولاد کی نذر(منت) ختم ہوجائے گی۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:481 | volume:0


Answer-4: اگر ماں کسی عمل کے انجام دینے سے منع کرے تو اولاد کی نذر(منت) صحیح نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:520 | volume:0



679

Category : وقف

Question : کیا وقف کی ہوئی چیز وقف کی حیثیت سے خارج ہوسکتی ہے ؟


Answer-1: وقف کردہ املاک وقف کی حیثیت سے خارج نہیں ہوتیں مگر یہ کہ وقف کو ایک عنوان سے مقید کیا ہو اور وہ عنوان ختم ہوجائے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:529 | volume:0


Answer-2: اگر وقف شدہ چیز خراب بھی ہوجائے تو وقف کی حیثیت سے خارج نہیں ہوگی ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:431 | volume:0


Answer-3: وقف شدہ چیز وقف سے خارج نہیں ہوتی مگر یہ کہ وقف میں ایک عنوان کا قصد کیا ہو اور وہ عنوان ختم ہوجائے ۔۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:489 | volume:0


Answer-4: وقف کردہ املاک وقف کی حیثیت سے خارج نہیں ہوتی مگر یہ کہ جس چیز سے وقف نے تعلق رکھا تھا وہ عنوان ہو اور وہ زائل ہوجائے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:529 | volume:0



680

Category : طلاق

Question : آیا عدالت کی طلاق صحیح ہے ؟


Answer-1: اگر عدالت کی طلاق شرائط کے ساتھ ہو تو صحیح ہے اور شرائط میں سے خاص صیغہ کے ساتھ اور دومرد عادل کے سامنے طلاق واقع کرنا ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:منھاج الصالحین | Page:150 | volume:3


Answer-2: اگر عدالت کی طلاق شرائط کے ساتھ ہو تو صحیح ہے اور شرائط میں سے خاص صیغہ کے ساتھ اور دومرد عادل کے سامنے طلاق واقع کرنا ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:تحریر الوسیلہ | Page:295 | volume:2


Answer-3: اگر عدالت کی طلاق شرائط کے ساتھ ہو تو صحیح ہے اور شرائط میں سے خاص صیغہ کے ساتھ اور دومرد عادل کے سامنے طلاق واقع کرنا ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:منھاج الصالحین | Page:329 | volume:3


Answer-4: اگر عدالت کی طلاق شرائط کے ساتھ ہو تو صحیح ہے اور شرائط میں سے خاص صیغہ کے ساتھ اور دومرد عادل کے سامنے طلاق واقع کرنا ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:منھاج الصالحین | Page:330 | volume:3


Answer-5: اگر عدالت کی طلاق شرائط کے ساتھ ہو تو صحیح ہے اور شرائط میں سے خاص صیغہ کے ساتھ اور دومرد عادل کے سامنے طلاق واقع کرنا ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:منھاج الصالحین | Page:0 | volume:3


Answer-6: اگر عدالت کی طلاق شرائط کے ساتھ ہو تو صحیح ہے اور شرائط میں سے خاص صیغہ کے ساتھ اور دومرد عادل کے سامنے طلاق واقع کرنا ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:منھاج الصالحین | Page:329 | volume:3


Answer-7: اگر عدالت کی طلاق شرائط کے ساتھ ہو تو صحیح ہے اور شرائط میں سے خاص صیغہ کے ساتھ اور دومرد عادل کے سامنے طلاق واقع کرنا ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:منھاج الصالحین | Page:330 | volume:3


Answer-8: اگر عدالت کی طلاق شرائط کے ساتھ ہو تو صحیح ہے اور شرائط میں سے خاص صیغہ کے ساتھ اور دومرد عادل کے سامنے طلاق واقع کرنا ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:منھاج الصالحین | Page:330 | volume:3



681

Category : انشورنس

Question : آیا شیئرز خریدنا جائز ہے ؟


Answer-1: اگر کوئی کمپنی حرام یا سودی معاملات میں مشغول ہو تو اسکے شیئرز خریدنا جائز نہیں ہیں ورنہ جائز ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:560 | volume:0


Answer-2: اگر کوئی کمپنی کے معاملات رَبوَی (سودی ) ہوں تو انکے شیئرز خریدنا جائز نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:منھاج الصالحین | Page:436 | volume:0


Answer-3: اگرکوئی کمپنی کے معاملات رَبوَی (سودی ) ہوں تو انکے شیئرز خریدنا جائز نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:منھاج الصالحین | Page:436 | volume:2



682

Category : طلاق

Question : طلاق خلع سے کیا مراد ہے ؟


Answer-1: شوہر کا بیوی کو طلاق دینا جو شوہر کی طرف رغبت نہ رکھے ، اسے ناپسند کرے اور مہر یا کوئی دوسرا مال شوہر کو دے تاکہ شوہر اسکو طلاق دے اسے طلاق خلع کہتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:491 | volume:0


Answer-2: شوہر کا بیوی کو طلاق دینا جو اپنے شوہر کی طرف مائل نہ ہو اور مہر یا کوئی دوسرا مال شوہر کو دے تاکہ اسکو طلاق دے اسے طلاق خلع کہتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:400 | volume:0


Answer-3: شوہر کا بیوی کو طلاق دینا جو اپنے شوہر کی طرف مائل نہ ہو اور مہر یا کوئی دوسرا مال شوہر کو دے تاکہ اسکو طلاق دے اسے طلاق خلع کہتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:453 | volume:0


Answer-4: شوہر کا بیوی کو طلاق دینا جو شوہر کو ناپسند کرے ،اور اس بات کا خوف ہو کہ وہ شوہر کے واجب حقوق ادا نہ کرے ، اورحرام میں مبتلا ہوجائے ، مہر یا دوسرا مال شوہر کو دے تاکہ اسکو طلاق دے اسے طلاق خلع کہتے ہیں ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:491 | volume:0



683

Category : طلاق

Question : طلاق کی عدّت کے دوران مطلقہ کا خرچہ کس کے ذمّے ہے؟


Answer-1: اگر شوہر نے بیوی کو طلاق رجعی دی ہو تو دوران عدّت مطلقہ کا خرچہ اسکے ذمے ہے۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:489 | volume:0


Answer-2: اگر شوہر نے بیوی کو طلاق رجعی دی ہو تو دوران عدّت مطلقہ کا خرچہ اسکے ذمے ہے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:تحریر الوسیلہ | Page:309 | volume:2


Answer-3: اگر شوہر نے بیوی کو طلاق رجعی دی ہو تو دوران عدّت مطلقہ کا خرچہ اسکے ذمے ہے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:منھاج الصالحین | Page:339 | volume:3


Answer-4: اگر شوہر نے بیوی کو طلاق رجعی دی ہو تو دوران عدّت مطلقہ کا خرچہ اسکے ذمے ہے۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:منھاج الصالحین | Page:339 | volume:3



684

Category : طلاق

Question : آیا جس عورت کو طلاق دی گئی ہو وہ شوہر کو لذّت اٹھانے سے روک سکتی ہے ؟


Answer-1: جس عورت کو طلاق رجعی دی گئی ہو وہ بیوی کے حکم میں ہے لہذا شوہر کو لذّت حاصل کرنے سے روک نہیں سکتی ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:494 | volume:0


Answer-2: جس عورت کو طلاق رجعی دی گئی ہو وہ بیوی کے حکم میں ہے لہذا شوہر کو لذّت حاصل کرنے سے روک نہیں سکتی ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:تحریر الوسیلہ | Page:309 | volume:2


Answer-3: جس عورت کو طلاق رجعی دی گئی ہو وہ بیوی کے حکم میں ہے لہذا شوہر کو لذّت حاصل کرنے سے روک نہیں سکتی ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:منھاج الصالحین | Page:339 | volume:3


Answer-4: جس عورت کو طلاق رجعی دی گئی ہو وہ بیوی کے حکم میں ہے لہذا شوہر کو لذّت حاصل کرنے سے روک نہیں سکتی ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:منھاج الصالحین | Page:339 | volume:3



685

Category : عقد

Question : کیا مسلمان مرد عیسائی یا یہودی عورت سے عقد دائمی کرسکتا ہے ؟


Answer-1: احتیاط لازم کی بناء پر مسلمان مرد عیسائی یا یہودی عورت سے عقد دائمی نہیں کرسکتا ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:464 | volume:0


Answer-2: احتیاط واجب کی بناء پر مسلمان مرد کا عیسائی اور یہودی عورت سے عقد دائمی کرنا جائز نہیں ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:379 | volume:0


Answer-3: احتیاط مستحب کی بناء پر مسلمان مرد عیسائی اور یہودی عورت سے عقد دائمی نہ کرے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:429 | volume:0


Answer-4: احتیاط مستحب کی بناء پر مسلمان مرد عیسائی اور یہودی عورت سے عقد دائمی نہ کرے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:466 | volume:0



686

Category : عقد

Question : کیا مسلمان عورت کسی یہودی یا عیسائی مرد سے عقد دائمی کر سکتی ہے ؟


Answer-1: مسلمان عورت یہودی یا عیسائی مرد سے عقد دائمی نہیں کر سکتی ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:464 | volume:0


Answer-2: مسلمان عورت یہودی یا عیسائی مرد سے عقد دائمی نہیں کر سکتی ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:379 | volume:0


Answer-3: مسلمان عورت یہودی یا عیسائی مرد سے عقد دائمی نہیں کر سکتی ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:429 | volume:0


Answer-4: مسلمان عورت یہودی یا عیسائی مرد سے عقد دائمی نہیں کر سکتی ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:466 | volume:0



687

Category : کھانے پینے کے احکام

Question : جہاں شراب پی جارہی ہو وہاں کھانے پینے کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: جس دستر خوان پر شراب پی جارہی ہو وہاں کھانا ، کھانا حرام ہے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:516 | volume:0


Answer-2: جس دستر خوان پر شراب پی جارہی ہو وہاں کھانا حرام ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:تحریر الوسیلہ | Page:151 | volume:2


Answer-3: جس دستر خوان پر شراب پی جارہی ہو وہاں کھانا حرام ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:منھاج الصالحین | Page:393 | volume:3


Answer-4: جس دستر خوان پر شراب پی جارہی ہو اور یہ شخص ان ہی میں شمار ہو رہا ہو تو اسکے لئے وہاں کھانا حرام ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:515 | volume:0



688

Category : نماز

Question : اگر کوئی شک کرے کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ ہے یا نہیں تو نماز کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: اگر کوئی شک کرے کہ سفر آٹھ فرسخ ہے یا نہیں تو نماز چار رکعت پڑھے گا ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:249 | volume:0


Answer-2: اگر شک کرے کہ آٹھ فرسخ ہے یا نہیں ۔ اگر تحقیق کرنے میں مشقت نہ ہو تو احتیاط واجب ہے کہ تحقیق کرے ورنہ چار رکعت نماز پڑھے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:201 | volume:0


Answer-3: اگر کوئی شک کرے کہ سفر آٹھ فرسخ ہے یا نہیں تو نماز چار رکعت پڑھے گا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:222 | volume:0



689

Category : طہارت

Question : سر کے کس حصے پر مسح کرنا اور کتنی مقدار میں مسح کرنا واجب ہے ؟


Answer-1: سر کے چار حصوں میں سے وہ حصہ جو پیشانی کے مقابل ہے اس پر مسح کرنا واجب ہے اور مذکورہ حصے پر کہیں بھی مسح کرسکتے ہیں اور جتنا بھی مسح کریں کرسکتے ہیں اگر چہ احتیاط مستحب کی بناء پر ایک انگشت کے برابر اور چوڑائی میں تین انگشت کے برابر مسح کریں ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:49 | volume:0


Answer-2: سر کے چار حصوں میں سے وہ حصہ جو پیشانی کے مقابل ہے اس پر مسح کرنا واجب ہے اور مذکورہ حصے پر کہیں بھی مسح کرسکتے ہیں اور جتنا بھی مسح کریں کرسکتے ہیں اگر چہ احتیاط مستحب کی بناء پر ایک انگشت کے برابر اور چوڑائی میں تین انگشت کے برابر مسح کریں ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:37 | volume:0


Answer-3: سر کے چار حصوں میں سے وہ حصہ جو پیشانی کے مقابل ہے اس پر مسح کرنا واجب ہے اور مذکورہ حصے پر کہیں بھی مسح کرسکتے ہیں اور جتنا بھی مسح کریں کرسکتے ہیں اگر چہ احتیاط مستحب کی بناء پر ایک انگشت کے برابر اور چوڑائی میں تین انگشت کے برابر مسح کریں ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:43 | volume:0


Answer-4: سر کے چار حصوں میں سے وہ حصہ جو پیشانی کے مقابل ہے اس پر مسح کرنا واجب ہے اور مذکورہ حصے پر کہیں بھی مسح کرسکتے ہیں اور جتنا بھی مسح کریں کرسکتے ہیں اگر چہ مستحب ہے کی بناء پر ایک انگشت کے برابر اور چوڑائی میں تین انگشت کے برابر بہتر ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:44 | volume:0



690

Category : طہارت

Question : پاؤں کا مسح کس طرح کرنا چاہیئے ؟


Answer-1: سر کے مسح کرنے کے بعد جو ہاتھوں میں تری بچ گئی ہے اسے پاؤں کی کسی بھی انگلی کے سرے سے جوڑ تک مسح کرے البتہ احتیاط مستحب ہے کہ سیدھے پاؤں کو سیدھے ہاتھ جبکہ اُلٹے پاؤں کو اُلٹے ہاتھ سے مسح کرے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:49 | volume:0


Answer-2: سر کے مسح کرنے کے بعد جو ہاتھوں میں تری بچ گئی ہے اسے پاؤں کی کسی بھی انگلی کے سرے سے پاؤں کے اُوپر موجود اُبھار تک مسح کرے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:37 | volume:0


Answer-3: سر کے مسح کرنے کے بعد جو ہاتھوں میں تری بچ گئی ہے اسے پاؤں کی کسی بھی انگلی کے سرے سے پاؤں کے اُوپر موجود اُبھار تک مسح کرےالبتہ احتیاط واجب ہے کہ انگلیوں کے سرے سے پاؤں کے جوڑ تک مسح کرے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:44 | volume:0


Answer-4: سر کے مسح کرنے کے بعد جو ہاتھوں میں تری بچ گئی ہے اسے پاؤں کی کسی بھی انگلی کے سرے سے پاؤں کے اُوپر موجود اُبھار تک مسح کرےالبتہ احتیاط مستحب ہے کہ انگلیوں کے سرے سے پاؤں کے جوڑ تک مسح کرے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:45 | volume:0



691

Category : عقد

Question : اگر مرد طواف النساء بجا نہ لائے تو اسکا کیا اثر ہوگا ؟


Answer-1: اگر مرد طواف النساء بجا نہ لائے چاہے حج کا ہو یا عمرہ مفردہ کا تو اسکی بیوی اسکے لئے حلال نہیں ہوگی ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:466 | volume:0


Answer-2: اگر مرد طواف النساء بجا نہ لائے چاہے حج کا ہو یا عمرہ مفردہ کا تو اسکی بیوی جو محرم ہونے کی وجہ سے اسپر حرام ہوگئی تھی حلال نہیں ہوگی ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:381 | volume:0


Answer-3: اگر مرد طواف النساء بجا نہ لائے تو اسکی بیوی اور دوسری عورتیں اسپر حرام ہوجائیں گی ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:431 | volume:0


Answer-4: اگر مرد طواف النساء بجا نہ لائے چاہے حج کا ہو یا عمرہ مفردہ کا تو اسکی بیوی اور دوسری عورتیں جو احرام کی وجہ سے حرام ہوگئی تھیں اسکے لئے حلال نہیں ہونگیں ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:467 | volume:0



692

Category : نماز

Question : اگر کسی جگہ کے دو راستے ہوں ایک آٹھ فرسخ سے کم اور دوسرا آٹھ فرسخ سے زیادہ تو کیا اس جگہ سفر کرنے والا مسافر شمار ہوگا ؟


Answer-1: اگر کسی جگہ کے دو راستے ہوں ایک آٹھ فرسخ سے کم اور دوسرا آٹھ فرسخ سے زیادہ حکم مسافر کے لئے جس راستے سے جائے گا اسے معیار بنایا جائے گا ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:249 | volume:0


Answer-2: اگر کسی جگہ کے دو راستے ہوں ایک آٹھ فرسخ سے کم اور دوسرا آٹھ فرسخ سے زیادہ حکم مسافر کے لئے جس راستے سے جائے گا اسے معیار بنایا جائے گا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:202 | volume:0


Answer-3: اگر کسی جگہ کے دو راستے ہوں ایک آٹھ فرسخ سے کم اور دوسرا آٹھ فرسخ سے زیادہ حکم مسافر کے لئے جس راستے سے جائے گا اسے معیار بنایا جائے گا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:223 | volume:0


Answer-4: اگر کسی جگہ کے دو راستے ہوں ایک آٹھ فرسخ سے کم اور دوسرا آٹھ فرسخ سے زیادہ حکم مسافر کے لئے جس راستے سے جائے گا اسے معیار بنایا جائے گا ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:232 | volume:0



693

Category : نماز

Question : حکم مسافر میں کیا فاصلے کی ابتداء گھر سے ہوگی ؟


Answer-1: معمولی شہر میں مسافرت کی صورت میں فاصلے کی ابتداء شہر کے آخری حصے سے ہوگی ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:250 | volume:0


Answer-2: معمولی شہر میں مسافرت کی صورت میں فاصلے کی ابتداء شہر کی دیوار یا شہر کے آخری گھروں سے ہوگی ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:202 | volume:0


Answer-3: مسافرت کی صورت میں فاصلے کی ابتداء شہر کی دیوار یا شہر کے آخری گھروں سے ہوگی ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:223 | volume:0


Answer-4: مسافرت کی صورت میں فاصلے کی ابتداء شہر کی دیوار یا شہر کے آخری گھروں سے ہوگی ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:232 | volume:0



694

Category : نماز

Question : سفر کی مقدار کس قدر ہو جس کے بعد نماز قصر پڑھی جاتی ہے ؟


Answer-1: سفر کی مقدار رفت و آمد ملا کر کم از کم آٹھ فرسخ 44 کلومیٹر (تقریباً ) ہو تو نماز قصر پڑھنا واجب ہے

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:248 | volume:0


Answer-2: سفر کی مقدار رفت و آمد ملا کر کم از کم آٹھ فرسخ یعنی 45 کلومیٹر (تقریباً ) ہو تو نماز قصر پڑھنا واجب ہے

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:201 | volume:0


Answer-3: سفر کی مقدار رفت و آمد ملا کر کم از کم آٹھ فرسخ یعنی44 کلو میٹر سے کچھ کم ہو تو نماز قصر پڑھنا واجب ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:222 | volume:0


Answer-4: سفر کی مقدار رفت و آمد ملا کر کم از کم آٹھ فرسخ یعنی44 کلو میٹر سے کچھ کم ہو تو نماز قصر پڑھنا واجب ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:231 | volume:0



695

Category : نماز

Question : اگر کسی شخص کا جانا تین فرسخ اور واپس آنا پانچ فرسخ ہو تو کیا وہ مسافر شمار کیا جائے گا ؟


Answer-1: اگر کسی شخص کا جانا چار فرسخ (تقریبا ً 22 کلو میٹر ) سے کم ہو اور واپس آنا چار فرسخ (تقریبا ً 22 کلو میٹر )سے زیادہ ہو لیکن مجموعاً آٹھ فرسخ (44 کلو میٹر ) ہو وہ مسافر شمار ہوگا ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:248 | volume:0


Answer-2: اگر کسی شخص کا جا نا چار فرسخ (22.5 کلو میٹر ) سے کم ہو اگرچہ واپس آنا زیادہ ہی کیو ں نہ ہو وہ مسافر شمار نہیں ہوگا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:201 | volume:0


Answer-3: اگر کسی شخص کا جانے یا واپس آنے میں سے کوئی طرف بھی چار فرسخ (تقریباً 22 کلو میٹر ) سے کم ہو تو وہ مسافر شمار نہیں ہوگا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:222 | volume:0


Answer-4: اگر کسی شخص کا جانے یا واپس آنے میں سے کوئی طرف بھی چار فرسخ (تقریباً 22 کلو میٹر ) سے کم ہو تو وہ مسافر شمار نہیں ہوگا ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:231 | volume:0



696

Category : نماز

Question : کسی کو یقین تھا کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ ہے اور اس نے نماز قصر پڑھی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ سفر آٹھ فرسخ سے کم تھا تو نماز کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: کسی کو یقین تھا کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ (44 کلو میٹر ) ہے اس نے نماز قصر پڑھی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ سفر آٹھ فرسخ سے کم تھا تو لازم ہے نماز کو دوبارہ 4 رکعتی پڑھے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:249 | volume:0


Answer-2: کسی کو یقین تھا کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ (45 کلو میٹر ) ہے اس نے نماز قصر پڑھی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ سفر آٹھ فرسخ سے کم تھا تو لازم ہے نماز کو دوبارہ 4 رکعتی پڑھے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:201 | volume:0


Answer-3: کسی کو یقین تھا کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ (44 کلو میٹر ) ہے اس نے نماز قصر پڑھی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ سفر آٹھ فرسخ سے کم تھا تو لازم ہے نماز کو دوبارہ 4 رکعتی پڑھے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:222 | volume:0


Answer-4: کسی کو یقین تھا کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ (44 کلو میٹر ) ہے اس نے نماز قصر پڑھی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ سفر آٹھ فرسخ سے کم تھا تو لازم ہے نماز کو دوبارہ 4 رکعتی پڑھے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:232 | volume:0



697

Category : نماز

Question : کسی کو یقین تھا کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ سے کم ہے اس نے نماز مکمل پڑھی بعد میں معلوم ہو کہ آٹھ فرسخ سے زیادہ تھا اس کی نماز کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: کسی کو یقین تھا کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ (44 کلومیٹر ) سے کم ہے اس نے نماز مکمل پڑھی بعد میں معلوم ہوا کہ سفر آٹھ فرسخ سے زیادہ تھا اگر وقت باقی ہو تو دوبارہ نماز قصر پڑھے گا ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:249 | volume:0


Answer-2: کسی کو یقین تھا کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ (45 کلو میٹر ) سے کم ہے اس نے نماز مکمل پڑھی بعد میں معلوم ہوا کہ سفر آٹھ فرسخ سے زیادہ تھا اگر وقت باقی ہو تو دوبارہ نماز قصر پڑھے گا اور اگر وقت ختم ہوگیا ہو تو احتیاط واجب کی بناء پر قضاء کرے گا۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:201 | volume:0


Answer-3: کسی کو یقین تھا کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ (44 کلومیٹر ) سے کم ہے اس نے نماز مکمل پڑھی بعد میں معلوم ہوا کہ سفر آٹھ فرسخ سے زیادہ تھا اگر وقت باقی ہو تو دوبارہ نماز قصر پڑھے گا ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:منھاج الصالحین | Page:257 | volume:2


Answer-4: کسی کو یقین تھا کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ (44 کلومیٹر ) سے کم ہے اس نے نماز مکمل پڑھی بعد میں معلوم ہوا کہ سفر آٹھ فرسخ سے زیادہ تھا اگر وقت باقی ہو تو دوبارہ نماز قصر پڑھے گا ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:232 | volume:0



698

Category : نماز

Question : ایسے افراد جو گھٹنوں کے درد کی وجہ سے نیچے بیٹھ کر سجدہ نہیں کر سکتے ان کے لئے سجدے کا کیا حکم ہے ؟


Answer-1: ایسے خواتین و حضرات جو گھٹنوں کے درد کی وجہ سے نیچے نہیں بیٹھ سکتے ۔ اتنا جُھک سکتے ہوں کہ عرفاً سجدہ صادق آئے تو واجب ہے کہ سجدہ گاہ کو بلند جگہ پر رکھ کر سجدہ کریں ، البتہ اعضا ء سجدہ کو جسقدر ممکن ہو زمین تک پہنچائیں

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:منھاج الصالحین | Page:206 | volume:1


Answer-2: ایسے خواتین و حضرات جو گھٹنوں کے درد کی وجہ سے نیچے نہیں بیٹھ سکتے جتنا جُھک سکتے ہیں جُھکیں اور سجدہ گاہ کو اُٹھا کر پیشانی اس پر رکھیں اور واجبات سجدہ میں سے جو انجام دے سکتے ہوں انجام دیں ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:تحریر الوسیلہ | Page:158 | volume:1


Answer-3: ایسے خواتین و حضرات جو گھٹنوں کے درد کی وجہ سے نیچے نہیں بیٹھ سکتے تو جتنا جُھک سکتے ہیں جُھکیں اور سجدہ گاہ کو بلند جگہ رکھ کر ایسا سجدہ کریں کہ لوگ کہیں کہ سجدہ کیا ہے اعضاء سجدہ کو جس قدر ممکن ہو زمین تک پہنچائیں ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:182 | volume:0


Answer-4: ایسے خواتین و حضرات جو گھٹنوں کے درد کی وجہ سے نیچے نہیں بیٹھ سکتے تو جتنا جُھک سکتے ہیں جُھکیں اور سجدہ گاہ کو بلند جگہ رکھ کر ایسا سجدہ کریں کہ لوگ کہیں کہ سجدہ کیا ہے اعضاء سجدہ کو جس قدر ممکن ہو زمین تک پہنچائیں ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:190 | volume:0



699

Category : نماز

Question : اگر نماز میں قیام کی حالت میں شک ہوجائے کہ تیسری رکعت ہے یا چوتھی رکعت یا پانچویں رکعت تو نماز کیا حکم ہے ؟


Answer-1: اگر نماز میں قیام کی حالت میں شک ہوجائے کہ تیسری رکعت ہے یا چوتھی رکعت ہے یا پانچویں رکعت تو بیٹھ کر تشھد و سلام پڑھے پھر دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہوکر اور دو رکعت بیٹھ کر انجام دے ۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:236 | volume:0


Answer-2: اگر نماز میں قیام کی حالت میں شک ہوجائے کہ تیسری رکعت ہے یا چوتھی رکعت یا پانچویں رکعت تو بیٹھ کر تشھد و سلام پڑھے پھر دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر اور دو رکعت بیٹھ کر انجام دے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:توضیح المسائل | Page:190 | volume:0


Answer-3: اگر نماز قیام کی حالت میں شک ہوجائے کہ تیسری رکعت ہے یا چوتھی رکعت یا پانچویں رکعت تو بیٹھ کر تشھد و سلام پڑھے پھر دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر اور دو رکعت بیٹھ کر انجام دے اور احتیاط واجب کی بناء پر دو سجدہ سہو اضافی قیام کے لئے انجام دے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:توضیح المسائل | Page:210 | volume:0


Answer-4: اگر نماز میں قیام کی حالت میں شک ہوجائے کہ تیسری رکعت ہے یا چوتھی رکعت یا پانچویں رکعت تو بیٹھ کر تشھد و سلام پڑھے پھر دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر اور دو رکعت بیٹھ کر انجام دے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:توضیح المسائل | Page:219 | volume:0



700

Category : عدت

Question : کیا عدّت وفات میں عورت کا گھر سے نکلنا حرام ہے ؟


Answer-1: عورت کا عدّت وفات میں گھر سے باہر نکلنا ا حرام نہیں ہے۔

Scholar:آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی | Book:توضیح المسائل | Page:488 | volume:0


Answer-2: عورت کا عدّت وفات میں گھر سے باہر نکلنا حرام نہیں ہے۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید روح اللہ موسوی خمینی | Book:تحریر الوسیلہ | Page:303 | volume:2


Answer-3: عورت کا عدّت وفات میں گھر سے باہر نکلنا جائز ہے ، لیکن مکروہ ہے ۔

Scholar:آیت اللہ مرحوم سید محمد ابو القاسم الخوئی | Book:منھاج الصالحین | Page:335 | volume:3


Answer-4: عورت کا عدّت وفات میں گھر سے باہر نکلنا جائز ہے ، لیکن مکروہ ہے ۔

Scholar:آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی | Book:منھاج الصالحین | Page:335 | volume:3